سندھ کے محکمہ توانائی میں عالمی بینک کی فنڈنگ سے چلنے والے سولر انرجی منصوبے میں بڑے پیمانے پر مبینہ کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سولر پینلز کی درآمد اور پروکیورمنٹ میں تین ارب روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں، جس پر قومی احتساب بیورو (نیب) نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق نیب نے اس معاملے پر سندھ حکومت کو باضابطہ مراسلہ ارسال کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکرٹری کو ہدایت کی ہے کہ منصوبے سے متعلق تمام ریکارڈ فراہم کیا جائے اور متعلقہ افسران کو تحقیقات کے لیے پیش کیا جائے۔
نیب نے نیب آرڈیننس 1999 کے سیکشن 18 کے تحت محکمہ توانائی کے افسران کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ تحقیقات کا مرکز عالمی بینک کے تعاون سے چلنے والا سندھ سولر انرجی پروجیکٹ ہے، جس میں سولر پینلز کی پروکیورمنٹ کے دوران مبینہ غبن سامنے آیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس مبینہ کرپشن سے قومی خزانے کو بھاری مالی نقصان پہنچا ہے۔ چیف منسٹر سیکرٹریٹ نے تمام متعلقہ محکموں کو نیب کے ساتھ مکمل تعاون اور مطلوبہ ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایات بھی جاری کر دی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق سندھ سولر انرجی پروجیکٹ میں جعلی کسٹم دستاویزات کے ذریعے تقریباً 3 ارب 2 کروڑ روپے کی بڑی رقم کا اسکینڈل سامنے آیا ہے۔ یہ منصوبہ عالمی بینک کے 10 کروڑ ڈالر کی فنڈنگ سے چلایا جا رہا تھا۔
تحقیقات میں کلیئرنگ ایجنٹ، غیرملکی کمپنی کے حکام اور محکمہ توانائی کے پراجیکٹ افسران کی مبینہ ملی بھگت کا بھی شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
منصوبے کے تحت کم آمدنی والے گھرانوں میں 2 لاکھ سولر سسٹمز اور سولر پنکھے تقسیم کیے جانے تھے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ستمبر 2024 سے مئی 2025 کے دوران 2 لاکھ ایس ایچ ایس کٹس اور متعلقہ سامان کے لیے 4 کروڑ 25 لاکھ 5 ہزار ڈالر مالیت کے چار معاہدے کیے گئے۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ غیرملکی کمپنی کی جانب سے کسٹمز میں جمع کرائی گئی 21 گڈز ڈیکلیریشنز میں سے صرف 5 اصلی تھیں، 9 میں ردوبدل یا جعل سازی کی گئی جبکہ 7 جی ڈیز کا کسٹمز سسٹم میں کوئی وجود ہی نہیں تھا۔










