گزشتہ کچھ عرصے کے دوران ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے استعمال میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے باعث جہاں ایک طرف جدید ٹیکنالوجی کے مثبت پہلو سامنے آئے ہیں، وہیں اس کے منفی اثرات نے حکومتوں، ماہرین اور عوام کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
ڈیپ فیک دراصل ایسی تصاویر، ویڈیوز یا آڈیو کلپس کو کہا جاتا ہے جو مصنوعی ذہانت (اے ائی) اور ڈیپ لرننگ کی مدد سے تیار یا تبدیل کیے جاتے ہیں، مگر دیکھنے اور سننے میں بالکل اصل محسوس ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے عام افراد کے لیے اصل اور جعلی مواد میں فرق کرنا دن بدن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
ڈیپ فیک کی اصطلاح سب سے پہلے 2017 میں منظرِ عام پر آئی، جب ایک آن لائن صارف نے مشہور شخصیات کے چہروں کو ایڈٹ کر کے جعلی اور غیر اخلاقی ویڈیوز تیار کیں۔ اس واقعے کے بعد یہ ٹیکنالوجی دنیا بھر میں بحث کا موضوع بن گئی۔
ماہرین کے مطابق ڈیپ فیک ٹیکنالوجی زیادہ تر جنریٹو ایڈورسریل نیٹ ورک (جی اے این) پر کام کرتی ہے، جس میں دو اے آئی ماڈلز شامل ہوتے ہیں۔ ایک ماڈل جعلی مواد تیار کرتا ہے جبکہ دوسرا ماڈل اس میں موجود خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ عمل بار بار دہرایا جاتا ہے یہاں تک کہ جعلی مواد اصل جیسا دکھائی دینے لگتا ہے۔
ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا نقصان اس کا غلط استعمال ہے۔ سائبر مجرم اس کے ذریعے جعلی ویڈیوز اور آڈیوز بنا کر لوگوں کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ بعض کیسز میں جعلی اغوا کی ویڈیوز بنا کر تاوان وصول کرنے کی کوششیں بھی سامنے آ چکی ہیں۔
اس کے علاوہ، ڈیپ فیک کے ذریعے جعلی فحش مواد تیار کرنا، سیاسی رہنماؤں کے جھوٹے بیانات وائرل کرنا اور انتخابات کو متاثر کرنا بھی ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جمہوری ممالک میں اس ٹیکنالوجی کے منفی اثرات زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کو مثبت مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ مفید بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ فلم انڈسٹری، تعلیمی شعبے، تاریخی واقعات کی عکاسی، اور تفریحی و طنزیہ مواد کی تیاری میں اس ٹیکنالوجی کا استعمال ممکن ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین عوام کو مشورہ دیتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز اور آڈیوز پر فوراً یقین نہ کریں، معلومات کی تصدیق کریں اور مشکوک مواد کو آگے پھیلانے سے گریز کریں۔











