فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) نے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف کو حاصل مراعات اور سہولتوں سے متعلق تفصیلی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اپوزیشن لیڈر کو تنخواہ اور مراعات کے اعتبار سے وفاقی وزیر کے مساوی حیثیت حاصل ہے۔
فافن کی رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی میں محمود خان اچکزئی جبکہ سینیٹ میں علامہ راجہ ناصر عباس قائدِ حزبِ اختلاف کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ میں بھی قائدِ حزبِ اختلاف کی تقریری مکمل کر لی گئی ہیں، جس کے بعد دونوں ایوانوں میں اپوزیشن لیڈر کے اختیارات اور مراعات واضح ہو گئی ہیں۔
فافن کے مطابق قائدِ حزبِ اختلاف کی ماہانہ تنخواہ 5 لاکھ 19 ہزار روپے ہے، جبکہ انہیں ایک مرتبہ 5 ہزار روپے کا آلات الاؤنس دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ 6 ہزار روپے ماہانہ سپلیمنٹری الاؤنس اور 22 ہزار روپے ماہانہ یوٹیلیٹی الاؤنس بھی مراعات میں شامل ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قائدِ حزبِ اختلاف کو سرکاری طور پر فرنشیڈ رہائش فراہم کی جاتی ہے، جبکہ سرکاری رہائش استعمال نہ کرنے کی صورت میں انہیں ماہانہ 1 لاکھ 3 ہزار 125 روپے کرایہ ادا کیا جاتا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے لیے سرکاری گاڑی فراہم کی جاتی ہے، جس کی دیکھ بھال حکومت کے ذمے ہوتی ہے۔
فافن کے مطابق اپوزیشن لیڈر کو دستیابی کی صورت میں پاک فضائیہ یا حکومت کے ہیلی کاپٹر یا طیارے کے استعمال کی اجازت بھی حاصل ہے۔ سفر کے دوران 4 ہزار 50 روپے یومیہ روانہ الاؤنس جبکہ سرکاری قیام کے دوران 4 ہزار روپے یومیہ قیام الاؤنس دیا جاتا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ قائدِ حزبِ اختلاف کے لیے ایک پرائیویٹ سیکرٹری، ایک پرسنل اسسٹنٹ، ایک اسٹینوگرافر، ایک قاصد اور ایک نائب قاصد تعینات کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔ رہائش پر سرکاری ٹیلی فون کی سہولت دی جاتی ہے جس پر اندرونِ ملک کالز مفت ہوتی ہیں، جبکہ علاج اور طبی سہولتیں بھی فراہم کی جاتی ہیں۔
فافن کے مطابق مراعات کے ساتھ ساتھ قائدِ حزبِ اختلاف کا کردار آئینی تقرریوں میں بھی انتہائی اہم ہے، اور انہیں ایوان میں اظہارِ خیال کے لیے دیگر اراکین پر ترجیح حاصل ہوتی ہے۔
فافن کی رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ملک میں عوامی نمائندوں کی مراعات پر بحث جاری ہے، اور یہ رپورٹ اپوزیشن لیڈر کے اختیارات اور سہولتوں سے متعلق ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔










