امریکا کی ایک عدالت نے ایرانی نژاد امریکی خاتون صحافی مسیح علی نژاد کو قتل کرنے کی سازش میں ملوث شخص کو 15 سال قید کی سزا سنا دی ہے۔
اے ایف پی کے مطابق مسیح علی نژاد ایرانی حکومت کے خلاف سب سے نمایاں اختلافی آوازوں میں شمار ہوتی ہیں۔ انہوں نے 2009 میں ایران سےخودساختہ جلا وطنی اختیار کی تھی۔ تب سے وہ مسلسل ایرانی حکام پر تنقید کر رہی ہیں۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق 50 سالہ کارلائل رویرا کو نومبر 2024 میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ مبینہ طور پر مسیح علی نژاد کے قتل کے منصوبے پر عملدرآمد کرنے ہی والا تھا ۔ امریکی محکمۂ انصاف کا کہنا ہے کہ یہ سازش براہِ راست ایرانی حکومت کی ہدایت پر تیار کی گئی تھی۔
اس سازش میں شامل ایک اور شخص جوناتھن لوڈہولٹ پہلے ہی جرم قبول کر چکا ہے، جسے اپریل میں سزا سنائے جانے کا امکان ہے۔
عدالت کے فیصلے کے بعد 49 سالہ مسیح علی نژاد نے امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران میں برسر اقتدار افراد کے خلاف عملی اقدامات کرے ۔ حتیٰ کہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی گرفتاری کا بھی مطالبہ کیا۔
قومی سلامتی کے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل جان آئزنبرگ نے کہا کہ یہ سزا اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ تشدد اور خوف کے ذریعے زندہ رہنے والی حکومت کے ساتھ سازش کرنے کے سنگین نتائج ہوتے ہیں۔
مسیح علی نژاد 2022 کے موسمِ گرما میں بھی ایک قاتلانہ حملے کا نشانہ بننے والی تھیں، جو عین وقت پر ناکام بنا دیا گیا تھا۔











