اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ عالمی ادارہ مالی تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے اور اگر رکن ممالک نے اپنے واجبات ادا نہ کیے تو جولائی 2026 تک اقوامِ متحدہ کے پاس نقد رقم ختم ہو سکتی ہے۔
اے ایف پی کے مطابق اقوامِ متحدہ اس وقت شدید بجٹ بحران کا شکار ہے کیونکہ کئی ممالک نہ تو مکمل واجبات ادا کر رہے ہیں اور نہ ہی مقررہ وقت پر ادائیگی ہو رہی ہے، جس کے باعث ادارے کو بھرتیوں پر پابندی اور اخراجات میں کٹوتیاں کرنا پڑ رہی ہیں۔
گزشتہ برس(2025) کے اختتام پر اقوامِ متحدہ کے ذمے 1.6 ارب ڈالر کے واجبات ادا نہیں کیے گئے، جو 2024 کے مقابلے میں دوگنا سے بھی زیادہ ہیں، حالانکہ 150 سے زائد ممالک اپنی ادائیگیاں کر چکے ہیں۔
صورتحال کو مزید سنگین بناتے ہوئے گوتریس نے انکشاف کیا کہ اقوامِ متحدہ کو کچھ رکن ممالک کو غیر استعمال شدہ رقوم واپس بھی کرنا پڑتی ہیں، جبکہ ادارے کے پاس عملی طور پر وہ رقم موجود ہی نہیں۔ انہوں نے اس کیفیت کو “کافکائی چکر” قرار دیا۔
انتونیو گوتریس نے رکن ممالک کو لکھے گئے خط میں کہا کہ یا تو تمام رکن ممالک اپنی مکمل اور بروقت ادائیگیاں یقینی بنائیں، یا پھر اقوامِ متحدہ کے مالیاتی نظام میں بنیادی اور فوری اصلاحات کی جائیں ورنہ مالیاتی انہدام یقینی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آمدن میں فوری بہتری نہ آئی تو اقوامِ متحدہ 2026 کے منظور شدہ پروگرام بجٹ پر مکمل عملدرآمد کے قابل نہیں رہے گی۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے حالیہ مہینوں میں اقوامِ متحدہ کے کئی اداروں کی فنڈنگ کم کر دی ہے اور بعض لازمی ادائیگیوں کو مسترد یا مؤخر کیا ہے۔ ٹرمپ پہلے ہی اقوامِ متحدہ کی افادیت اور ترجیحات پر سوال اٹھاتے رہے ہیں۔
سیکیورٹی کونسل بھی امریکا، روس اور چین کے درمیان کشیدگی کے باعث مفلوج ہو چکی ہے، جبکہ ٹرمپ کا نیا متنازع منصوبہ بورڈ آف پیس بھی سامنے آیا ہے، جسے ناقدین اقوامِ متحدہ کے متبادل کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔











