اہم ترین

کہیں تالیاں تو کہیں توہین اور بل بورڈز کی توڑ پھوڑ، امریکی خاتون اول پر بنی فلم ریلیز

امریکی خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ کی زندگی پر بننے والی فلم میلانیا امریکا بھر میں نمائش کے لیے پیش کر دی گئی ہے تاہم ریلیز کے ساتھ ہی یہ فلم شدید تنازع، سیاسی تقسیم اور عوامی ردِعمل کی زد میں آ گئی ہے۔

فلم کی شاندار پریمیئر تقریب واشنگٹن کے کینیڈی سینٹر میں ہوئی، جسے حال ہی میں ٹرمپ کینیڈی سینٹر کا نام دیا گیا ہے۔ تقریب میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلم کو انتہائی دلکش اور گلیمرس قرار دیا۔

واشنگٹن میں ایک نمائش کے دوران ناظرہ ساوانا ہیریسن نے کہا کہ وہ فلمی پردے کے پیچھے کے مناظر دیکھنے کے تجسس میں آئی تھیں اور فلم نے انہیں خوشگوار حیرت میں ڈال دیا۔ یہ فلم ٹرمپ خاندان کو ایک انسانی زاویے سے پیش کرتی ہے، جو عام طور پر عوام کو نظر نہیں آتا۔

تاہم امریکا کے بڑے شہروں میں ردِعمل یکساں نہیں۔لاس اینجلس میں فلم کے اشتہاری بل بورڈز کو اس حد تک توہین آمیز انداز میں نقصان پہنچایا گیا کہ وہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئے۔

تقریباً ایک گھنٹہ 44 منٹ پر مشتمل یہ فلم جنوری 2025 کی تقریبِ حلف برداری سے قبل کے 20 دنوں میں میلانیہ ٹرمپ کی نجی زندگی کو دکھاتی ہے۔ فلم میں ان کی تیاریوں، لباس کے انتخاب، وائٹ ہاؤس واپسی کے انتظامات اور ذاتی لمحات کو شامل کیا گیا ہے۔

فلم میں کوئی چونکا دینے والا انکشاف نہیں، تاہم میلانیہ اپنی والدہ کی وفات کے گہرے اثرات پر بات کرتی ہیں اور بتاتی ہیں کہ ان کے پسندیدہ گلوکار مائیکل جیکسن ہیں۔ دلچسپ طور پر فرانسیسی خاتونِ اول بریجٹ میکرون بھی ویڈیو کال کے ذریعے فلم میں نظر آتی ہیں۔

دوسری جانب امریکی میڈیا نے فلم پر سخت تنقید کی ہے۔ دی اٹلانٹک نے اسے شرمناک جبکہ ورائٹی نے کھلی تشہیر قرار دیا۔

رپورٹس کے مطابق ایمیزون نے فلم کے حقوق 40 ملین ڈالر میں خریدے، جس کا بڑا حصہ میلانیا ٹرمپ کو بطور ایگزیکٹو پروڈیوسر ملے گا، یہ پہلو بھی شدید بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔

فلم کے ہدایتکار بریٹ ریٹنر کی وجہ سے بھی تنازع کھڑا ہوا ہے، جن پر ماضی میں جنسی ہراسانی کے الزامات لگ چکے ہیں، اگرچہ وہ ان کی تردید کر چکے ہیں۔

دلچسپ پیش رفت یہ ہے کہ جنوبی افریقا میں فلم کو ریلیز سے قبل ہی سینما گھروں سے ہٹا لیا گیا، جس کی وجہ وہاں کا موجودہ سیاسی ماحول بتایا گیا ہے، کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ اور جنوبی افریقہ کے تعلقات کشیدہ رہے ہیں۔ یوں میلانیا فلم نہ صرف ایک ڈاکیومنٹری بلکہ امریکی سیاست، میڈیا اور سماجی تقسیم کی علامت بن کر سامنے آ گئی ہے۔

پاکستان