بالی ووڈ کی معروف اداکارہ اور ڈانسر نورا فتیحی آج کل اپنے ایک متنازع گانے کے باعث خبروں میں ہیں۔ جنوبی بھارتی زبان کناڈا میں بنی فلم کےڈی:دی ڈیول کے آئٹم سانگ سرکے چنر کو سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سامنا ہے، جس کے بعد گانے کا ہندی ورژن مختلف پلیٹ فارمز سے ہٹا دیا گیا ہے۔
گانے پر بڑھتی ہوئی تنقید کے بعد نورا فتیحی نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے اپنا مؤقف پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ گانا انہوں نے تقریباً تین سال قبل شوٹ کیا تھا اور اس وقت انہیں بتایا گیا تھا کہ یہ معروف گانے کا ری میک ہے، جس میں انہیں کوئی نامناسب بات محسوس نہیں ہوئی۔
اداکارہ کے مطابق انہیں کناڈا زبان سمجھ نہیں آتی، اس لیے انہوں نے فل سازوں کے ترجمے پر بھروسا کیا۔ تاہم بعد میں جب ہندی ورژن سامنے آیا تو اس کے بول انہیں نامناسب لگے، جس پر انہوں نے فوری طور پر اعتراض کیا۔
نورا نے مزید کہا کہ گانے کے ہندی ورژن اور بول کے لیے ان سے کوئی اجازت نہیں لی گئی، جبکہ ان کی تصاویر بھی بغیر منظوری استعمال کی گئیں، جن میں بعض اےآئی کے ذریعے بنائی گئی تھیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے اس پروجیکٹ کی تشہیر بھی نہیں کی اور خود کو اس سے الگ کر لیا تھا۔ نورا فتیحی کا کہنا تھا کہ وہ کسی فلمی خاندان سے تعلق نہیں رکھتیں اور نہ ہی انہیں کسی قسم کی بیکنگ حاصل ہے، اس لیے وہ اپنی محنت کے بل بوتے پر کام کر رہی ہیں۔
اداکارہ نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ عوامی ردعمل کے بعد گانا ہٹا دیا گیا، اور انہوں نے آئندہ ایسے معاملات میں مزید احتیاط برتنے کا عزم بھی ظاہر کیا۔









