مالی سال 2026 کی دوسری سہ ماہی میں پاکستان میں ادائیگیوں کا منظرنامہ بدل گیا۔۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق رواں مالی سال کی دوسری سہہ ماہی میں 3.4 ارب ریٹیل ٹرانزیکشنز میں 92 فیصد ڈیجیٹل طریقوں سے ہوئیں۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مالی سال 2026 کی دوسری سہ ماہی میں ادائیگیوں کے نظام کی جائزہ رپورٹ جاری کردی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ریٹیل ادائیگیوں کی تعداد 3.4 ارب ٹرانزیکشنز رہی، جن میں سے 92 فیصد ڈیجیٹل ذرائع سے انجام پائی، جبکہ گزشتہ سہ ماہی میں یہ تناسب 88 فیصد تھا۔
ریٹیل ادائیگیوں کی مجموعی مالیت 167 ٹریلین پاکستانی روپے تک پہنچ گئی، جن میں سے 3.1 ارب ٹرانزیکشنز ڈیجیٹل ذرائع سے کی گئیں، اور ان کی مجموعی مالیت بڑھ کر 64 ٹریلین روپے ہو گئی۔ موبائل ایپ سے ادائیگیوں کا حصہ بدستور سب سے زیادہ رہا، بینکوں اور الیکٹرانک منی اداروں کی ایپس کے ذریعے 2.6 ارب ٹرانزیکشنز انجام دی گئیں۔
فوری ادائیگی کے نظام راست نے بھی مستحکم نمو کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے 645.7 ملین ٹرانزیکشنز انجام دیں۔
زیرِ گردش پیمنٹ کارڈز کی تعداد بڑھ کر 66.7 ملین ہو گئی، جن میں 87 فیصد ڈیبٹ کارڈ اور صرف 5 فیصد کریڈٹ کارڈ ہیں۔ یومیہ تقریباً 1.7 ملین ٹرانزیکشنز درج کی گئیں۔ ملک بھر میں 20 ہزار 976 اے ٹی ایمز کے نیٹ ورک سے 277 ملین ٹرانزیکشنز انجام پائیں، جن کی مالیت 4.9 ٹریلین روپے رہی۔
یہ اعداد و شمار پاکستان میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے بڑھتے ہوئے رجحان اور فوری ادائیگی کے نظام کی مضبوط کارکردگی کی عکاسی کرتے ہیں۔۔









