امریکی انٹیلی جنس حکام کو ایران کے خلاف جاری جنگ کے جواز پر ایک بار پھر سخت سوالات کا سامنا ہے، جہاں تلسی گبارڈ نے کانگریس میں پیشی کے دوران محتاط مؤقف اختیار کیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو فوری جوہری خطرہ قرار دینے کے دعوے پر بحث چھڑ گئی ہے، تاہم تلسی گیبارڈ نے اس مؤقف کی براہ راست توثیق سے گریز کیا اور کہا کہ ایسے خطرات کا تعین کرنا صدر کی ذمہ داری ہے۔ اس بیان پر ڈیموکریٹ اراکین نے سخت ردعمل دیا اور کہا کہ خطرات کا اندازہ لگانا انٹیلی جنس اداروں کا بنیادی کام ہے۔
سماعت کے دوران انکشاف ہوا کہ امریکی حملوں میں ایران کا جوہری پروگرام تباہ ہو چکا ہے اور تاحال دوبارہ بحال نہیں ہوا، جبکہ گیبارڈ کے مطابق ایران کی حکومت کمزور مگر برقرار ہے۔
ادھر انٹیلی جنس حکام کے مؤقف پر سوالات اس وقت مزید بڑھ گئے جب سینئر عہدیدار جو کینٹ نے جنگ کے خلاف احتجاجاً استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے اپنے خط میں مؤقف اختیار کیا کہ ایران حملے سے قبل فوری خطرہ نہیں تھا۔
دوسری جانب امریکی حکومت کے اندر بھی اختلافات سامنے آ رہے ہیں، جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی حتمی وقت مقرر نہیں کیا گیا۔ کانگریس میں جاری سماعت میں امکان ہے کہ انٹیلی جنس رپورٹس اور حکومتی بیانات کے درمیان تضادات پر مزید سوالات اٹھائے جائیں گے۔









