ٹیک کمپنیوں میں ملازمین کی جگہ ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کا رجحان

دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت (اےآئی) کے بڑھتے ہوئے استعمال نے روزگار کے شعبے پر گہرا اثر ڈالنا شروع کر دیا ہے۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق زیادہ تر کمپنیاں کھل کر تو اس بات کا اظہار نہیں کر رہیں، مگر موقع ملنے پر وہ اپنے ملازمین کو اے آئی سے تبدیل کرنے کے لیے تیار ہیں۔

مطالعے میں شامل تقریباً 90 فیصد کمپنیوں نے کہا کہ وہ پیداواری صلاحیت بڑھانے اور اخراجات کم کرنے کے لیے انسانی افرادی قوت کی جگہ اے آئی کو ترجیح دینے کے حق میں ہیں۔ ان کمپنیوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ جدید اے آئی سسٹمز اب زیادہ مؤثر انداز میں کام کر سکتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ اپنی ورک فورس کم کرنے پر آمادہ ہیں۔

تحقیق میں شامل کئی سینئر بزنس لیڈرز کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں ملازمین کی اطمینان کے بجائے اے آئی میں سرمایہ کاری زیادہ اہم ہو چکی ہے۔ کمپنیوں کو یہ بھی احساس ہے کہ نئی بھرتیاں کم ہو رہی ہیں، اس لیے ایسے فیصلوں پر زیادہ مزاحمت کا سامنا نہیں ہوگا۔

اس رجحان کی ایک بڑی مثال ایمیزون ہے، جس نے حالیہ ری اسٹرکچرنگ کے دوران تقریباً 16 ہزار ملازمین کو فارغ کر دیا۔ کمپنی کے مطابق یہ فیصلہ ٹیموں کو چھوٹا کرنے اور فیصلہ سازی کے عمل کو بہتر بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایمیزون اب مصنوعی ذہانت پر بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہی ہے اور اسے امید ہے کہ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے وہ اپنے سالانہ ریونیو میں نمایاں اضافہ کر سکے گی۔