ایران کا واحد فعال سول ایٹمی بجلی گھر بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ ایک بار پھر جنگی کارروائیوں کا نشانہ بن گیا، جس نے خطے میں شدید تشویش کو جنم دے دیا ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ہفتہ کے روز ہونے والے امریکا اسرائیل فضائی حملے میں ایک سیکیورٹی گارڈ ہلاک ہو گیا، جبکہ یہ پلانٹ جنگ کے آغاز (28 فروری) کے بعد اب تک کم از کم پانچ مرتبہ نشانہ بنایا جا چکا ہے۔
صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ روسی کمپنی روساٹم نے اپنے 198 ماہرین کو فوری طور پر وہاں سے نکالنا شروع کر دیا ہے۔
یہ ایٹمی منصوبہ 1975 میں ایران کے شاہ کے دور میں شروع ہوا، جسے ابتدائی طور پر جرمن کمپنی سیمنز نے بنایا۔لیکن 1979 کے ایران انقلاب اور بعد ازاں ایران عراق جنگ کے باعث منصوبہ تعطل کا شکار ہو گیا۔ بعد میں ایران نے روس کے ساتھ معاہدہ کر کے اسے مکمل کیا، اور بالآخر یہ پلانٹ 2013 میں باضابطہ طور پر فعال ہوا۔
امریکا طویل عرصے سے اس منصوبے کی مخالفت کرتا رہا، کیونکہ اسے خدشہ تھا کہ اس کے ذریعے ایران جوہری ہتھیار حاصل کر سکتا ہے۔ تاہم روس نے ایک معاہدے کے تحت ایندھن کی فراہمی اور واپسی کو یقینی بنا کر یہ منصوبہ مکمل کیا۔
دوسری جانب آئی اے ای اے کی نگرانی میں یہ پلانٹ سول استعمال کے لیے سمجھا جاتا ہے، مگر ایران کی یورینیم افزودگی (60 فیصد تک) نے عالمی خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
خلیج فارس کے کنارے واقع یہ پلانٹ جغرافیائی لحاظ سے کویت سٹی اور دوحا جیسے عرب دارالحکومتوں کے زیادہ قریب ہے، جس کی وجہ سے پڑوسی ممالک کو کسی بھی ممکنہ تابکاری لیک یا زلزلے کی صورت میں سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق، جنگی حالات میں ایٹمی تنصیبات پر حملے نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔ بوشہر پر حالیہ حملہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جدید جنگ اب صرف میدان تک محدود نہیں رہی — بلکہ حساس ترین تنصیبات بھی اس کی لپیٹ میں آ چکی ہیں۔










