جدید جنگی حکمتِ عملی میں ایک انقلابی موڑ آ چکا ہے جہاں مصنوعی ذہانت (اے آئی) اب میدانِ جنگ میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہے۔ امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کا اے آئی پروگرام پروجیکٹ میون ایران کے خلاف حالیہ حملوں میں کلیدی حیثیت اختیار کر چکا ہے، جسے جدید دور کی جنگی ٹیکنالوجی کا بڑا سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
پروجیکٹ میون کو 2017 میں شروع کیا گیا تھا جو ابتدا میں صرف ڈرونز کی ویڈیوز کا تجزیہ کرنے کے لیے بنایا گیا تھا، مگر آج یہ ایک مکمل اے آئی بیسڈ ٹارگٹنگ اور بیٹل فیلڈ مینجمنٹ سسٹم بن چکا ہے۔ یہ نظام سیٹلائٹ تصاویر، دشمن کی نقل و حرکت، اور فوجی ڈیٹا کو یکجا کر کے چند لمحوں میں حملے کے فیصلے تک پہنچ جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق پروجیکٹ میون نے جنگی عمل کے سب سے اہم مرحلے یعنی “کل چین” کو گھنٹوں سے کم کر کے چند سیکنڈز تک محدود کر دیا ہے، یعنی ہدف کی نشاندہی سے لے کر اس کی تباہی تک کا پورا عمل برق رفتاری سے مکمل ہوتا ہے۔
اے آئی سے چلنے والا یہ پروگرام ایران کے خلاف کارروائیوں میں روزانہ 300 سے 500 اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے، جبکہ ایک آپریشن کے پہلے 24 گھنٹوں میں ہی 1000 سے زائد حملے کیے گئے۔
یہ ٹیکنالوجی جہاں ایک طرف جنگی کارکردگی میں اضافہ کر رہی ہے، وہیں اخلاقی سوالات بھی جنم لے رہے ہیں۔
ماضی میں گوگل نے اسی پروگرام سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا تھا کیونکہ اس کے ملازمین نے اسے “خطرناک اور غیر اخلاقی” قرار دیا تھا۔ اب پلینٹئر اس منصوبے کا مرکزی حصہ بن چکی ہے، اور اس کے اے آئی سسٹمز پروجیکٹ میون کو طاقت فراہم کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق، اے آئی کے ذریعے جنگ کا یہ نیا انداز مستقبل میں عالمی طاقتوں کے درمیان فرق کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی نہ صرف جنگ کو تیز تر بلکہ زیادہ پیچیدہ اور خطرناک بھی بنا رہی ہے۔










