اہم ترین

ایران جنگ: کئی افریقی ممالک کے لیے خطرہ تو کئی کیلئے نئےتجارتی مواقع

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ افریقی ممالک کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ بن کر ابھری ہے۔

اےایف پی کے مطابق افریقن یونین اور افریقن ڈیولپمنٹ بینک کی مشترکہ رپورٹ کے مطابق ایران پر امریکا اسرائیل حملے کے بعد مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع نے افریقا کو شدید تجارتی جھٹکے سے دوچار کیا ہے، جو تیزی سے مہنگائی کے بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ ایندھن اور خوراک کی قیمتوں میں اضافہ، شپنگ اور انشورنس لاگت میں اضافہ، اور کرنسی پر دباؤ اس کے بڑے اثرات ہیں۔

ایتھوپیا سمیت کئی افریقی ممالک میں پہلے ہی پیٹرول کی قلت سامنے آ چکی ہے، جبکہ کرنسی کی قدر میں کمی نے درآمدات کو مزید مہنگا بنا دیا ہے۔ اگر جنگ 6 ماہ سے زیادہ جاری رہی تو 2026 میں افریقا کی مجموعی پیداوار (GDP) میں 0.2 فیصد کمی ہو سکتی ہے۔

یو این ڈی پی اور پروگرام کمیشن فار افریقا کے تعاون سے تیار کی گئی اس رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ خلیجی ممالک سے ایل این جی کی سپلائی میں کمی کھاد کی پیداوار کو متاثر کرے گی، جس سے زرعی شعبہ شدید دباؤ میں آ سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق،اب تک 29 افریقی ممالک کی کرنسیوں کی قدر میں کمی ہو چکی ہے، جس سےبیرونی قرضوں کی ادائیگی مہنگی اور درآمدی اشیاء کی قیمتیں بڑھ گئیں،، ساتھ ہی زرِ مبادلہ کے ذخائر بھی گھٹ رہے ہیں۔

مشرق وسطیٰ میں جاری اس جنگی بحران نے جہاں اکثر افریقی ممالک کی مشکلات میں اضافہ کیا ۔۔ وہیں نائجیریا جیسے ممالک بھی ہیں جن کی تیل برآمدات کو فروغ ملا ۔ اسی طرح موزمبیق کو ایل این جی اور بندرگاہی سرگرمیوں سے فائدہ ہوا۔ جہازوں کا راستہ بدلنے سے جنوبی افریقا اور دیگر ساحلی ممالک کو عارضی مواقع ملے ہیں۔

اسی طرح ایتھوپیئن ایئر لائنز افریقا کو ایشیا اور یورپ سے جوڑ کر ایک ہنگامی فضائی پُل کا کردار ادا کر رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ فوائد غیر مساوی اور عارضی ہیں، جو مہنگائی، خوراک کی کمی اور بجٹ کے مسائل کو پورا نہیں کر سکیں گے۔ انسانی امداد کے اخراجات میں اضافہ اور ڈونر فنڈز کی منتقلی بھی افریقہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔

پاکستان