اہم ترین

ٹرمپ کی دھمکی پر ایران کو خطے کو جہنم بنانے کا اعلان

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے پاس صرف 48 گھنٹے ہیں کہ وہ یا تو معاہدہ کرے یا آبنائےہرمز کھول دے، ورنہ ان پر قیامت ٹوٹ پڑے گی۔

اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے ایران کو 10 دن کی مہلت دی گئی تھی، جو اب ختم ہونے کے قریب ہے۔ امریکا ایک “ایٹمی ایران” کو کسی صورت برداشت نہیں کرے گا۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب 27 مارچ کو ٹرمپ نے ایرانی توانائی تنصیبات پر ممکنہ حملے کو عارضی طور پر روکنے کا اعلان کیا تھا۔

دوسری جانب ایران نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی بھی حملے کی صورت میں بھرپور جواب دیا جائے گا۔

ایرانی فوج کے خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ترجمان کمانڈر میجر جنرل علی عبدالہٰی نے خبردار کیا کہ اگر امریکا یا اسرائیل نے جارحیت کی تو ایران بغیر کسی حد کے امریکی اور اسرائیلی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنائے گا۔

ترجمان نے مزید کہا کہ اگر جنگ کا دائرہ وسیع ہوا تو “پورا خطہ جہنم بن جائے گا، اور یہ کہ ایران اپنی صلاحیتوں سے پہلے ہی دشمنوں کو نقصان پہنچانے کی صلاحیت ثابت کر چکا ہے۔

ماہرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی لفظی جنگ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خطہ ایک بڑے تصادم کے دہانے پر کھڑا ہے، جس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ آبنائے ہرمز جیسے اہم تجارتی راستے پر کشیدگی عالمی معیشت کے لیے شدید خطرہ بن سکتی ہے، کیونکہ یہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔

پاکستان