اہم ترین

سولر انقلاب نے پاکستان کو ایران جنگ میں بڑے بحران سے بچالیا: رپورٹ

پاکستان میں تیزی سے فروغ پانے والی سولر انرجی نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باوجود توانائی بحران کے اثرات کو بڑی حد تک کم کر دیا ہے۔

ری نیو ایبل فرسٹ اور سینٹر فار ریسرچ آن انرجی اینڈ کلین ایئر کی جانب سے کی گئی مشترکہ تحقیق کے مطابق پاکستان میں 2018 سے سولر توانائی کے بڑھتے استعمال نے فروری 2026 تک ملک کو تیل اور گیس کی درآمدات میں 12 ارب ڈالر سے زائد کی بچت فراہم کی ہے۔ 2026 کے اختتام تک مزید 6.3 ارب ڈالر کی بچت متوقع ہے۔

پاکستان میں لوگ تیزی سے سولر پینلز کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔ دکانداروں کے مطابق ایندھن کی بڑھتی قیمتوں نے عام آدمی کے لیے پٹرول اور ڈیزل کا استعمال مشکل بنا دیا ہے، جبکہ بجلی کے بل بھی مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ سولر توانائی اپنانے سے اخراجات میں واضح کمی ممکن ہے۔

ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد شمسی توانائی کا فروغ ایک حفاظتی ڈھال ثابت ہوا ہے۔

اسلام آباد میں توانائی ماہر نبیہا عمران کے مطابق اگر پاکستان نے پہلے سے سولر توانائی نہ اپنائی ہوتی تو بجلی کے شعبے پر بحران کے اثرات کہیں زیادہ شدید ہوتے۔

پاکستان میں گھروں کی چھتوں پر سولر پینلز کی تنصیب میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو نہ صرف بجلی کی بلا تعطل فراہمی میں مدد دے رہے ہیں بلکہ لوڈشیڈنگ کے اثرات کو بھی کم کر رہے ہیں۔ اس رجحان کو ماہرین نے صارفین کی جانب سے تیزی سے اپنایا جانے والا توانائی کا انقلاب قرار دیا ہے۔

تاہم، توانائی کے شعبے میں مکمل خودکفالت ابھی حاصل نہیں ہو سکی۔ حالیہ مہینوں میں حکومت نے ایندھن کی قلت کے باعث کفایت شعاری کے اقدامات کیے، جن میں سرکاری ملازمین کے لیے چار روزہ ورک ویک اور تعلیمی اداروں کی عارضی بندش شامل ہے۔

انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے مطابق پاکستان کی 24 کروڑ سے زائد آبادی میں سے تقریباً 4 کروڑ افراد اب بھی بجلی سے محروم ہیں، جو توانائی کے شعبے میں مزید بہتری کی ضرورت کو ظاہر کرتا ہے۔

اگر سولر ٹیکنالوجی کو مزید سستا اور قابل رسائی بنایا جائے، اور بیٹری اسٹوریج سسٹمز کو فروغ دیا جائے، تو پاکستان نہ صرف توانائی بحران پر قابو پا سکتا ہے بلکہ درآمدی ایندھن پر انحصار بھی نمایاں طور پر کم کر سکتا ہے۔

پالیسی سازوں کو ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی اصلاحات لانے کی ضرورت ہے، جیسے الیکٹرک گاڑیوں کا فروغ، تاکہ عالمی منڈی میں ایندھن کی قیمتوں کے جھٹکوں سے بچا جا سکے اور ماحولیاتی آلودگی میں کمی لائی جا سکے۔

پاکستان