کراچی (تحریر : ابراہیم بھٹی): ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کوئی نئی بات نہیں، لیکن حالیہ جنگ بندی نے سب کو تھوڑا سا سکون کا سانس لینے کا موقع دیا ہے۔ اس پوری صورتحال میں پاکستان کا کردار کافی مثبت رہا، جس پر نہ صرف یہاں بلکہ عالمی سطح پر بھی بات ہو رہی ہے۔
سادہ الفاظ میں اگر بات کریں تو پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان ماحول کو ٹھنڈا کرنے میں مدد دی۔ ہماری حکومت نے کھل کر کسی ایک کا ساتھ دینے کے بجائے بیچ کا راستہ اختیار کیا، اور یہی بات اس کی سب سے بڑی طاقت بنی۔ کہا جاتا ہے کہ پاکستان نے خاموشی سے سفارتی رابطے کیے اور دونوں طرف بات چیت جاری رکھنے میں کردار ادا کیا۔
ماہرین بھی یہی کہتے ہیں کہ پاکستان نے ایک سمجھدار ملک ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ کچھ تجزیہ کاروں کے مطابق، پاکستان نے ایک ایسے “پل” کا کردار ادا کیا جو دو مخالف فریقوں کو قریب لانے میں مدد دیتا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر پاکستان اسی طرح متوازن پالیسی اپناتا رہا تو مستقبل میں بھی اسے ایسے مواقع مل سکتے ہیں۔
دوسری طرف اگر ہم عام لوگوں کے نقطہ نظر سے دیکھیں تو اس جنگ بندی کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ خطے میں جنگ کا خطرہ کم ہوا۔ جنگ ہوتی تو اس کے اثرات صرف ایران یا امریکہ تک محدود نہیں رہتے بلکہ پاکستان سمیت کئی ممالک متاثر ہوتے۔ مہنگائی بڑھتی، تیل کی قیمتیں اوپر جاتیں اور معیشت پر دباؤ بڑھتا۔
کچھ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت سے سیکیورٹی صورتحال بھی بہتر ہو سکتی ہے، خاص طور پر پاکستان کے مغربی علاقوں میں۔ جبکہ معاشی ماہرین کے مطابق اگر حالات پرامن رہتے ہیں تو پاکستان کے لیے تجارت اور توانائی کے منصوبوں میں بہتری کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن جیسے منصوبے بھی دوبارہ زیرِ غور آ سکتے ہیں۔
لیکن ہر چیز اتنی آسان بھی نہیں۔ کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ جنگ بندی وقتی ہو سکتی ہے، اس لیے پاکستان کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں کسی ایک طرف زیادہ جھکنے کے بجائے توازن برقرار رکھنا ہوگا، تاکہ اگر حالات دوبارہ خراب ہوں تو ہم مشکل میں نہ پڑیں۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پاکستان نے اس صورتحال میں ایک مثبت اور سمجھدار کردار ادا کیا ہے۔ اس سے نہ صرف اس کی ساکھ بہتر ہوئی ہے بلکہ عام لوگوں کے لیے بھی امید پیدا ہوئی ہے کہ شاید خطے میں امن قائم رہ سکے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ اگر پاکستان اسی طرح سمجھداری سے فیصلے کرتا رہا تو نہ صرف وہ عالمی سطح پر اپنا مقام بہتر بنا سکتا ہے بلکہ اپنے عوام کے لیے بھی بہتر مستقبل کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔
تعارف: ابراہیم بھٹی کا تعلق کراچی سے ہے۔وہ مقامی سطح پر فلاحی خدمات سرانجام دینے کے ساتھ ڈیفینڈر ز آف پاکستان موومنٹ نامی تحریک میں آرگنائزر کراچی کی حیثیت سے بھی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔

نوٹ : یہ بلاگ موجودہ عمومی معلومات اور تجزیے کی بنیاد پر لکھا گیا ہے۔ اس میں شامل آراء مختلف ماہرین سے کی گئی گفتگو سے اخذ کی گئی ہیں۔ حالات وقت کے ساتھ بدل سکتے ہیں، اس تحریر سے ویب سائیٹ انتظامیہ کا قطعی کوئی تعلق نہیں۔










