اہم ترین

جنگ بندی کے باوجود آبنائے ہرمز میں جہاز رانی نہ ہونے کے برابر

ایران اور امریکا کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود، دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک اب بھی مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکی ہے۔ جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے اداروں کے ڈیٹا سے پتا چلتا ہے کہ یہ اہم راستہ اب بھی تقریباً خاموش ہے۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق شپ ٹریکرز کے تجزیاتی ڈیٹا سے معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اس اہم ترین گزرگاہ سے صرف ایک آئل ٹینکر اور پانچ خشک مال بردار جہاز گزرے ہیں۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ جنگ بندی کے باوجود عالمی تجارتی کمپنیوں میں خوف اب بھی برقرار ہے۔

اعداد و شمار فراہم کرنے والے اداروں کیپلر، لائڈز لسٹ انٹیلی جنس اور سگنل اویشین کے مطابق 28 فروری کو ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کے آغاز سے اب تک یہاں ٹریفک نہ ہونے کے برابر ہے۔

حملے شروع ہونے سے پہلے یعنی 28 فروری سے پہلے روزانہ اوسطاً 140 بحری جہاز اس راستے سے گزرتے تھے۔ جب کہ موجودہ صورت حال میں یومیہ صرف چند گنتی کے جہاز ہی گزر رہے ہیں۔

اگرچہ ایران اور امریکا کے درمیان دو ہفتوں کے لیے لڑائی روکنے کا معاہدہ طے پا چکا ہے، لیکن سمندری ڈیٹا یہ ثابت کر رہا ہے کہ عالمی توانائی اور سپلائی چین کے لیے ریڑھ کی ہڈی سمجھی جانے والی یہ گزرگاہ اب بھی ورچوئل لاک ڈاؤن کی گرفت میں ہے۔ ماہرین کے مطابق، انشورنس کمپنیوں کے خدشات اور سیکیورٹی رسک کی وجہ سے بحری جہاز اب بھی اس روٹ کو استعمال کرنے سے کترا رہے ہیں۔

پاکستان