مائیکل جیکسن کی زندگی پر بننے والی نئی فلم مائیکل کی ریلیز نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ خواہ ان پر لگنے والے سنگین الزامات کیوں نہ ہوں کنگ آف پاپ کا جادو اب بھی قائم ہے۔
معروف ہالی ووڈ فلم ساز ادارے لائینز گیٹ اسٹوڈیو کو امید ہے کہ فلم مائیکل دنیا بھر میں 700 ملین ڈالر تک بزنس کرے گی۔ یہ کامیابی صرف بوہیمیاں راپسودی جیسی بڑی فلم سے کم ہو سکتی ہے۔
فوربز کے مطابق جیکسن مسلسل سب سے زیادہ کمائی کرنے والے مرحوم سیلیبریٹی رہے ہیں۔ اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپوٹیفائی پر آج بھی بڑے فنکاروں سے زیادہ سننے والے
مائیکل جیکسن پر بچوں کے ساتھ بدسلوکی کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ 2005 میں عدالت نے انہیں بری کر دیا، مگر موت کے بعد انکےخلاف کئی سول مقدمات اب بھی جاری ہیں۔ نئی فلم میں ان تنازعات کو زیادہ نمایاں نہیں کیا گیا
ماہرین کے مطابق مائیکل کی موت کے بعد ان کی برانڈ امیج زیادہ “کنٹرولڈ” ہو گئی۔ فلم کو جیکسن فیملی کی نگرانی میں بنایا گیا، اس لیے متنازع پہلو کم دکھائے گئے ہیں۔ کیونکہ ہالی ووڈ اب سیلیبریٹیز کی مکمل حقیقت دکھانے سے گریز کرتا ہے۔
مداح اب بھی جیکسن کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہان کی میراث محفوظ ہے، چاہے جتنا بھی تنقید ہو۔
نئی بایوپک نے یہ واضح کر دیا ہے کہ مائیکل جیکسن صرف ایک فنکار نہیں بلکہ ایک طاقتور عالمی برانڈ ہیں—جس پر الزامات کے باوجود مداحوں کی محبت اور مارکیٹ ویلیو آج بھی قائم ہے۔











