چاند کے گرد تاریخی پرواز کرنے والے آرٹیمس 2 مشن کی کامیابی کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر سازشی نظریات کی بھی بھرمار دیکھنے میں آئی، جہاں کچھ افراد نے اس مشن کو جعلی قرار دینے کی کوشش کی۔
ناسا کی کی جانب سے چاند کے گرد چکر لگا کر واپس آنے والے مشن میں 4 انسان بھی موجود تھے۔ چاروں خلا باز بحفاظت واپس زمین پر آگئے ہیں۔ اس مشن کی کامیابی سے تکمیل پر جہاں سائنسدان کائنات کے کئی روزوں سے واقف ہوئے ہیں ۔ وہیں سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اسے جھوٹے دعوے اور زمین پر ہی کی گئی فلم بندی قرار دے رہے ہیں۔
ایکس، ٹک ٹاک اور فیس بک سمیت دنای بھر میں استعمال ہونے ولاے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والے سازشی نظریات میں کہا گیا کہ اس مشن کو فلمی اسٹوڈیو میں گرین اسکرین کے ذریعے شوٹ کیا گیا، خلا بازوں کی ویڈیوز مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئیں یا پھر چاند کی سطح پر پراسرار اشیاء دیکھی گئی ہیں۔
سوشل میڈیا پر وائرل ایک تصویر کو تو دنیا بھر میں اب تک کروڑوں لاکھوں بار دیکھا جاچکا ہے، جس میں خلا بازوں کو کیمروں کے سامنے دکھایا گیا، جسے ثبوت کے طور پر پیش کیا گیا ۔تاہم ماہرین کے مطابق یہ تصویر خود اے آئی کے ذریعے تبدیل کی گئی تھی۔
اسی طرح ایک ویڈیو میں نظر آنے والی خرابی کو بھی سازش قرار دیا گیا، جبکہ حقیقت میں وہ ایک نیوز فیڈ کی تکنیکی غلطی تھی۔
ماہرین کے مطابق انٹرنیٹ پر غلط معلومات کا پھیلاؤ اب زیادہ منظم اور تیز ہو چکا ہے۔ بڑے سائنسی کارنامے سازشی نظریات پھیلانے والوں کے لیے آسان ہدف ہوتے ہیں۔کچھ لوگ ہر بڑے واقعے کو خودکار طور پر جعلی قرار دیتے ہیں اور خود کو ماہر ظاہر کرتے ہیں۔
ان دعوؤں نے 1969 کے چاند پر قدم رکھنے والے اپالو 11 مشن سے متعلق پرانی سازشی تھیوری کو بھی دوبارہ زندہ کر دیا، جس میں کہا جاتا ہے کہ چاند پر لینڈنگ دراصل ہالی ووڈ میں فلمائی گئی تھی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سستی اور آسان اے آئی ٹیکنالوجی نے جھوٹے دعوؤں کو مزید تقویت دی ہے۔ اس رجحان کو لائرز ڈیویڈنڈ کہا جاتا ہے، جس میں اصل مواد کو بھی جعلی قرار دے کر شکوک پیدا کیے جاتے ہیں۔











