اہم ترین

ہیکرز کا ساتھی؟ اینتھراپک کے مائیتھوس نے آنے سے پہلے خطرے کی گھنٹی بجا دی

دنیا بھر میں اپنی افادیت ثابت کرنے والی اے آئی کمپنی اینتھروپک نے اپنے جدید ترین ماڈل کلاؤڈ مائیتھوس کی ریلیز موخر کردی ہے۔ جس کے ساتھ ہی مصنوعی ذہانت کی دنیا میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ کیونکہ کمپنی کے مطابق یہ ماڈل اتنا طاقتور ہے کہ ہیکرز کے لیے خطرناک ہتھیار بن سکتا ہے۔

ٹیک کرنچ کے مطابق ایتھروپک کے نئے اے آئی ماڈل کلاؤڈ مائیتھوس کے محدود تجربات میں ایپل، ایمیزون ، مائیکرو سافٹ اور گوگل جیسی بڑی ٹیک کمپنیاں شامل ہیں، یہ شراکت داری اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ٹیک انڈسٹری اس ٹیکنالوجی کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق مائیتھوس جیسے ماڈلزبینکنگ سسٹمز، اسپتالوں اور قومی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ یہ کم وقت میں بڑے پیمانے پر سائبر حملے ممکن بنا سکتے ہیں۔ سیکیورٹی کی دنیا میں طاقت کا توازن بدل سکتے ہیں۔

ایتھروپک کا کہنا ہے کہ مائیتھوس خودکار طریقے سے سافٹ ویئر میں خامیاں تلاش کر سکتا ہے۔ یہ تیزی سے سیکیورٹی کمزوریاں جوڑ کر حملے کر سکتا ہے۔ ایسے سائبر حملے ممکن بنا سکتا ہے جو انسانی ہیکرز کے بس سے باہر ہوں۔ یہ خدشات اس حد تک بڑھے کہ امریکی بینکوں کے سربراہان نے امریکی اٹارنی جیروم پاول سے ملاقات کر کے اس نئے اے آئی ماڈل کے ممکنہ خطرات پر اپنے تحفظات سے آگاہ کیا۔

ماہرین کے مطابق مستقبل قریب میں ہیکرز اے آئی ایجنٹس کے ذریعے حملے کریں گے۔ دفاعی نظام بھی AI پر ہی انحصار کریں گے۔ اس سے دنیا میں ایک نئی ایجنٹ ٹو ایجنٹ جنگ شروع ہو سکتی ہے۔

سائبر سیکیورٹی کمپنی کراؤڈ اسٹرائیک کے ماہرین نے خبردار کیا کہ اے آئی کی مدد سے خود سیکھنے والا میلویئر تیار ہو سکتا ہے جو کسی بھی حکم پر عمل کرے۔

ٹیک سرمایہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ یہ خطرہ حقیقی ہو سکتا ہے، مگر اینتھروپک ماضی میں بھی اسی طرح خوف پیدا کر کے اپنی مصنوعات کو نمایاں کرنے کی حکمت عملی بھی اپناتا رہا ہے۔ اس لئے ایسا لگتا ہے کہ کمپنی خطرناک ٹیکنالوجی کو دلکش انداز میں پیش کر کے اس کی تشہیر کررہی ہے۔

ماہرین کے مطابق حقیقت شاید دونوں کے درمیان ہے، اس وقت اے آئی واقعی سائبر سیکیورٹی میں انقلاب لا رہا ہے۔ خودکار ہیکنگ کے حوالے سے خطرات حقیقی ہیں مگر کچھ خدشات مبالغہ یا مارکیٹنگ بھی ہو سکتے ہیں۔ اس لئے اصل چیلنج ٹیکنالوجی نہیں بلکہ اس کا استعمال ہے۔

پاکستان