لندن: عالمی بحری ادارے انٹر نیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کے سربراہ آرسینیو ڈومنگوزنے خبردار کیا ہے کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹول ٹیکس عائد کرنے کی کوشش بین الاقوامی قانون کے خلاف ہوگی۔
الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے واضح کیا کہ دنیا کو ایسی کسی بھی پالیسی کو مسترد کرنا چاہیے، کیونکہ بین الاقوامی آبی گزرگاہوں پر کسی ملک کو یکطرفہ طور پر فیس یا چارجز عائد کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔ ان کے مطابق اگر اس قسم کی روایت قائم ہو گئی تو یہ عالمی بحری تجارت کے لیے نقصان دہ مثال بن سکتی ہے۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے باعث اس اہم گزرگاہ میں جہاز رانی شدید متاثر ہوئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے اعلان کے باوجود خلیج میں تیل اور گیس کی ترسیل تقریباً معطل ہو چکی ہے۔
دوسری جانب ایرانی مؤقف کے مطابق امریکی مطالبات حد سے زیادہ تھے، جس کی وجہ سے معاہدہ ممکن نہ ہو سکا۔
صورتحال کے باعث آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت نمایاں طور پر کم ہو گئی ہے۔ جہاں پہلے روزانہ تقریباً 135 جہاز گزرتے تھے، اب یہ تعداد انتہائی محدود رہ گئی ہے، جس سے عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے۔
آرسینیو ڈومنگوز نے زور دیا کہ مسئلے کا بنیادی حل جنگ کا خاتمہ ہے۔ ان کے مطابق جیسے ہی کشیدگی کم ہوگی، مرحلہ وار جہاز رانی بحال کی جا سکتی ہے، تاہم اس کے لیے سمندری راستے کو بارودی سرنگوں جیسے خطرات سے پاک کرنا ضروری ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ بین الاقوامی معاہدے، خاص طور پر ایران اور عمان کے درمیان 1968 کا ٹریفک سسٹم، اس گزرگاہ کو منظم کرنے کے لیے کافی ہے اور کسی نئے فریم ورک کی ضرورت نہیں۔
آرسینیو ڈومنگوز نے خلیج میں پھنسے تقریباً 20 ہزار ملاحوں کی حالت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ انسانی مسئلہ ان کی اولین ترجیح ہے، کیونکہ اس تعطل کا سب سے زیادہ اثر عام افراد پر پڑ رہا ہے۔











