ایران اور امریکا کے درمیان مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے اہم مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران واضح کیا کہ واشنگٹن نے ایران کو اپنی “آخری اور بہترین پیشکش” دے دی ہے اور اب یہ ایران پر منحصر ہے کہ وہ اسے قبول کرتا ہے یا نہیں۔
مذاکرات کی ناکامی کی بڑی وجوہات میں ایران کا آبنائے ہرمز پر کنٹرول برقرار رکھنے کا مطالبہ اور اپنے یورینیم کے ذخائر سے دستبردار ہونے سے انکار بتایا جا رہا ہے۔ ایرانی پارلیمانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ان کی ٹیم نے تعمیری تجاویز دیں لیکن امریکی وفد ایرانی مندوبین کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔
اگرچہ باقاعدہ جنگی کارروائیاں ابھی دوبارہ شروع نہیں ہوئیں، لیکن صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔
پاکستان نے دونوں فریقین پر زور دے رہا ہے کہ وہ عارضی جنگ بندی کا احترام جاری رکھیں۔ اس دوران سعودی عرب نے اپنی تیل کی پائپ لائن کی بحالی اور قطر نے بحری آمدورفت پر پابندیاں اٹھانے کا اعلان کر کے عالمی منڈی کو کچھ ریلیف دینے کی کوشش کی ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا میدانِ جنگ میں پہلے ہی فتح حاصل کر چکا ہے، کیونکہ اس نے ایرانی قیادت اور فوجی ڈھانچے کو نشانہ بنایا ہے۔
جنگ کا ایک اور پیچیدہ پہلو لبنان ہے، جہاں اسرائیل نے حزب اللہ کے خلاف اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں، جس کے نتیجے میں اب تک 2000 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ اسرائیل نے واضح کیا ہے کہ وہ حزب اللہ کے ساتھ کسی جنگ بندی پر غور نہیں کر رہا۔











