برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے سوشل میڈیا کمپنیوں کے سربراہان کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کی آن لائن حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے پلیٹ فارمز کو اپنی روش بدلنی ہوگی، بصورتِ دیگر ان تک رسائی محدود کر دی جائے گی۔
لندن میں میٹا، ٹک ٹاک، ایکس (سابق ٹویٹر) اور اسنیپ چیٹ جیسی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کے دوران کیئر اسٹارمر نے واضح کیا کہ موجودہ صورتحال برقرار نہیں رہ سکتی۔ایسی دنیا جہاں بچوں کی رسائی محدود ہو، اس دنیا سے کہیں بہتر ہے جہاں سوشل میڈیا میں شرکت کی قیمت بچوں کو نقصان کی صورت میں چکانی پڑے۔
برطانوی حکومت اس وقت 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کرنے پر غور کر رہی ہے۔ آسٹریلیا پہلے ہی اس قسم کی پابندی لگا چکا ہے، جبکہ یونان اور یورپی یونین بھی اسی نقشِ قدم پر چلنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ وزیراعظم اسٹارمر نے کہا کہ وہ اس حوالے سے عوامی مشاورت کے نتائج کا انتظار کر رہے ہیں جو 26 مئی کو ختم ہوگی۔
برطانوی پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا (ہاؤس آف لارڈز) نے بھی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ آسٹریلیا کی پیروی کرتے ہوئے بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی لگائے۔ اگرچہ ایوانِ زیریں (ہاؤس آف کامنز) میں حکومت نے اس تجویز کو دو بار مسترد کیا ہے، لیکن اب وزیراعظم کے حالیہ بیان سے لگتا ہے کہ حکومت اپنا موقف سخت کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے زور دیا کہ کمپنیوں کو سوشل میڈیا کی لت لگنے والے فیچرز اور نقصانات کی ذمہ داری لینی ہوگی۔ اگر ہم نے آج بچوں کے تحفظ کے لیے قدم نہ اٹھایا تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔











