اہم ترین

شام میں 64 سال بعد کُردوں کی شہریت کی رجسٹریشن

شام میں کئی دہائیوں کے بعد کردوں کی شہریت کی رجسٹریشن کا کام دوبارہ شروع ہوگیا ہے۔

اے ایف پی کے مطابق شام میں 1962 کی متنازع مردم شماری کے بعد ہزاروں کرد غیر رجسٹرڈ قرار دیے گئے تھے، جس کے باعث وہ ریاستی شہریت سے محروم ہو گئے تھے۔ اب حالیہ حکومتی ہدایات کے بعد یہ افراد بڑی تعداد میں مراکز کا رخ کر رہے ہیں۔

یہ اقدام صدر احمد الشرع کے جنوری میں جاری کردہ ایک حکم نامے کے بعد سامنے آیا، جس کے تحت ملک میں مقیم کردوں کو شہریت دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس فیصلے میں کردوں کے ثقافتی اور لسانی حقوق کو بھی تسلیم کیا گیا اور کرد زبان کو قومی زبان کا درجہ دیا گیا۔

یہ پیش رفت حکومت اور کرد فورسز کے درمیان حالیہ کشیدگی اور جھڑپوں کے بعد ہونے والے معاہدے کا حصہ ہے، جس کے تحت کرد انتظامیہ کو مرکزی ریاست میں ضم کیا جا رہا ہے۔

شہریت نہ ہونے کے باعث کرد برادری کو زندگی کے تقریباً ہر شعبے میں مشکلات کا سامنا رہا، جن میں تعلیم، سفر، ملازمت اور جائیداد کی ملکیت شامل ہیں۔

حکام کے مطابق یہ اقدام لاکھوں افراد کی زندگی بدلنے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔

پاکستان