اہم ترین

آسکرصرف انسانوں کا: اے آئی مشینوں اور کمپیوٹرکے لیے ایوارڈز کے راستے بند

دنیا کے معتبر ترین فلمی ایوارڈ ‘آسکر’ کی انتظامیہ (اکیڈمی آف موشن پکچر آرٹس اینڈ سائنسز) نے مصنوعی ذہانت (اے ٓئی) کے بڑھتے ہوئے استعمال کو روکنے کے لیے نئے اور سخت قوانین کا اعلان کر دیا ہے۔ اکیڈمی کے مطابق، اب کوئی بھی ایسا اداکار یا رائٹر آسکر ایوارڈ کا اہل نہیں ہوگا جو مصنوعی ذہانت کے ذریعے تخلیق کیا گیا ہو۔

آسکر انتظامیہ کی جاری کردہ نئی گائیڈ لائنز کے مطابق، اداکاری کے زمرے میں صرف وہی فنکار نامزدگی کے اہل ہوں گے جن کا نام فلم کی قانونی بلنگ میں موجود ہو اور یہ ثابت ہو سکے کہ وہ کردار کسی جیتے جاگتے انسان نے اپنی مرضی اور رضامندی کے ساتھ ادا کیا ہے۔ اسی طرح، بہترین اسکرپٹ یا رائٹنگ کے زمرے میں بھی شرط رکھی گئی ہے کہ فلم کا اسکرپٹ کسی انسان کا تحریر کردہ ہونا چاہیے، نہ کہ کسی چیٹ بوٹ یا مشین کا۔

اکیڈمی کا یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فلمی دنیا میں اے آئی کے استعمال پر بحث چھڑی ہوئی ہے۔ حال ہی میں آنجہانی اداکار وال کلمر کا ایک اے آئی ورژن سینما مالکان کے سامنے پیش کیا گیا تھا، جس نے انڈسٹری میں ہلچل مچا دی تھی۔

اکیڈمی نے واضح کیا ہے کہ فن اور تخلیق کی اصل روح انسانی محنت میں ہے، اس لیے ٹیکنالوجی سے بنے ‘اوتار’ یا تحریریں انسانی تخلیق کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔

یہ کریک ڈاؤن فلمی صنعت کے ان حلقوں کے لیے ایک بڑی جیت قرار دیا جا رہا ہے جو طویل عرصے سے انسانی حقوق اور تخلیقی صلاحیتوں کے تحفظ کے لیے آواز اٹھا رہے تھے۔

پاکستان