جنوبی بحرالکاہل کے ممالک میں صحت کا بحران: ایڈز کا جنگل کی آگ کی طرح پھیلاؤ

جنوبی بحرالکاہل کے ملک فجی میں ایچ آئی وی کے کیسز میں تیزی سے اضافہ تشویشناک صورتحال اختیار کر گیا ہے، جسے حکومت نے قومی بحران قرار دے دیا ہے۔

دارالحکومت سووا میں موبائل کلینکس اور آگاہی مہمات کے ذریعے لوگوں کو ٹیسٹنگ کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ ان کلینکس کا مقصد ان افراد تک پہنچنا ہے جو خوف یا سماجی دباؤ کے باعث ٹیسٹ کروانے سے گریز کرتے ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال 2,000 سے زائد نئے کیسز سامنے آئے، جو 2024 کے مقابلے میں 26 فیصد زیادہ ہیں۔ یو این ایڈز کے مطابق فجی دنیا میں ایچ آئی وی کے تیزی سے پھیلنے والے ممالک میں شامل ہو چکا ہے، جہاں 2014 میں کیسز کی تعداد صرف 500 تھی جو اب بڑھ کر تقریباً 5,000 تک پہنچ گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق اس تیزی سے پھیلاؤ کی ایک بڑی وجہ منشیات کا بڑھتا استعمال ہے، خاص طور پر انجیکشن کے ذریعے لی جانے والی منشیات۔ فجی طویل عرصے سے منشیات کی اسمگلنگ کے لیے ایک راہداری رہا ہے، اور اب یہ منشیات مقامی سطح پر بھی استعمال ہو رہی ہیں، جس سے وائرس کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوا ہے۔

اس کے علاوہ، سماجی بدنامی (stigma) بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ قدامت پسند معاشرے میں جنسی صحت پر بات چیت نہ ہونے کے برابر ہے، جس کے باعث بہت سے لوگ نہ تو ٹیسٹ کرواتے ہیں اور نہ ہی علاج کے لیے سامنے آتے ہیں۔

متاثرہ افراد میں نوجوانوں کی بڑی تعداد شامل ہے، جو اکثر اپنے اسٹیٹس کو ظاہر کرنے سے ڈرتے ہیں۔ کچھ افراد کو تو بیماری کی تشخیص کے بعد یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ علاج ممکن ہے یا نہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ صورتحال پر قابو پانے کے لیے فوری اقدامات ضروری ہیں، جن میں محفوظ سوئیاں فراہم کرنے کے پروگرام، آگاہی مہمات، اور علاج تک آسان رسائی شامل ہیں۔ تاہم، حکومتی سطح پر ایسے اقدامات میں تاخیر تشویش کا باعث بن رہی ہے۔

صحت کے ماہرین کا زور اس بات پر ہے کہ بروقت ٹیسٹنگ اور علاج ہی اس وبا کو پھیلنے سے روکنے کا سب سے مؤثر طریقہ ہے۔