مشرق وسطیٰ کشیدگی کے بعد دبئی کی مالیاتی ساکھ پر سوالات کھڑے ہوگئے

متحدہ عرب امارات کی دوسری امیر ترین ریاست دبئی، جو خود کو ایک محفوظ عالمی مالیاتی مرکز کے طور پر پیش کرتی تھی، حالیہ علاقائی کشیدگی کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہو گئی ہے۔ ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی جنگی صورتحال نے نہ صرف سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل کیا بلکہ معیشت کے اہم شعبوں کو بھی متاثر کیا ہے۔

ایران کے حملوں کے بعد دبئی اور ابوظہبی کی اسٹاک مارکیٹوں میں نمایاں گراوٹ دیکھی گئی، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر تقریباً 120 بلین ڈالر کی قدر کم ہو گئی۔ دبئی کی مرکزی مارکیٹ انڈیکس میں 20 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ بعض دنوں میں 4 سے 5 فیصد تک کی تیز گراوٹ بھی سامنے آئی۔

معاشی تحقیقی اداروں کے مطابق، جنگی صورتحال کے دوران دبئی میں سیاحت میں واضح کمی ہوئی۔ ہوٹل بکنگ معمول کے 70 سے 80 فیصد کے مقابلے میں گر کر صرف 20 فیصد تک رہ گئی، جبکہ دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے پروازوں کی آمد و رفت میں بھی تقریباً دو تہائی کمی واقع ہوئی۔

اگرچہ عارضی جنگ بندی کے دوران کاروباری سرگرمیاں بحال ہونا شروع ہو گئی تھیں، تاہم 4 مئی کو فجیرہ آئل کمپلیکس پر ایرانی ڈرون حملے نے ایک بار پھر خطرات کو اجاگر کر دیا۔ ماہرین کے مطابق، امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی جتنی طویل ہو گی، دبئی کی عالمی کاروباری حیثیت کو اتنا ہی زیادہ نقصان پہنچے گا۔

غیر یقینی صورتحال کے باعث کئی دولت مند افراد نے اپنے اثاثے محفوظ رکھنے کے لیے سنگاپور اور سوئٹزرلینڈ جیسے مالیاتی مراکز کا رخ کرنا شروع کر دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ان ممالک میں ویلتھ ایڈوائزرز کو خلیجی سرمایہ کاروں کی جانب سے رابطوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

جنگ سے قبل دبئی کی معیشت تیزی سے ترقی کر رہی تھی اور 2025 میں تقریباً 4.7 فیصد شرح نمو ریکارڈ کی گئی۔ اسی سال تقریباً 9,800 کروڑ پتی افراد دبئی منتقل ہوئے، جو اپنے ساتھ 63 بلین ڈالر کی نئی سرمایہ کاری لائے۔

دبئی کی ٹیکس فری پالیسی، جدید انفراسٹرکچر اور عالمی معیار کی سہولیات اب بھی سرمایہ کاروں کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حالات جلد بہتر نہ ہوئے تو اس کی عالمی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر جنگ بندی برقرار رہتی ہے اور علاقائی استحکام بحال ہو جاتا ہے تو دبئی تیزی سے اپنی پوزیشن دوبارہ حاصل کر سکتا ہے۔ تاہم موجودہ صورتحال میں سرمایہ کار محتاط حکمت عملی اپناتے ہوئے اپنے اثاثے مختلف ممالک میں تقسیم کر رہے ہیں۔