امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی معاہدے سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے عندیہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کا اعلان آج اتوار کو بھی کیا جا سکتا ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق 28 فروری سے جاری ایران جنگ، جس میں اس وقت غیر معینہ مدت کی فائر بندی نافذ ہے، کے خاتمے کے لیے ایک مفاہمتی دستاویز (ایم او یو) تیار کی گئی ہے۔ اس مجوزہ معاہدے کا بنیادی نکتہ اپریل میں طے پانے والی جنگ بندی میں مزید 60 روز کی توسیع ہے۔
رپورٹس کے مطابق مجوزہ ڈیل کے تحت آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر عالمی تجارتی جہاز رانی کے لیے کھول دیا جائے گا اور ایران وہاں سے گزرنے والے مال بردار بحری جہازوں سے کوئی ٹول ٹیکس وصول نہیں کرے گا۔
اسی طرح امریکا کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں پر عائد بحری ناکہ بندی ختم کرنے اور بعض اقتصادی پابندیوں میں نرمی کی بھی تجویز شامل ہے تاکہ تہران اپنی تیل کی برآمدات آزادانہ طور پر جاری رکھ سکے۔
ممکنہ معاہدے میں ایران کی جانب سے یہ یقین دہانی بھی شامل ہوگی کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش نہیں کرے گا۔ دوسری طرف امریکہ کی جانب سے خلیج فارس اور خطے میں تعینات اضافی زمینی، بحری اور فضائی افواج جنگ بندی کے دوران بدستور موجود رہیں گی، تاہم مستقل امن معاہدہ طے پانے کی صورت میں انہیں واپس بلایا جا سکتا ہے۔
مجوزہ مفاہمتی دستاویز میں یہ مطالبہ بھی شامل کیا گیا ہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگ کا خاتمہ ہونا چاہیے۔
ادھر ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر دوبارہ جنگ مسلط کی گئی تو اس کا جواب پہلے سے زیادہ “تباہ کن” ہوگا، جس کے باعث خطے کی صورتحال بدستور انتہائی حساس تصور کی جا رہی ہے۔


