بحرین میں ایران کے مبینہ نیٹ ورک پر بڑا کریک ڈاؤن، 9 افراد کو عمر قید

خلیجی عرب ریاست بحرین میں ایران کے مبینہ حمایت یافتہ نیٹ ورک کے خلاف بڑی عدالتی کارروائی سامنے آئی ہے، جہاں ایک عدالت نے ایران کی پاسداران انقلاب اسلامی کور کے ساتھ ملی بھگت کے الزام میں 9 ملزمان کو عمر قید کی سزائیں سنا دی ہیں، جبکہ اسی مقدمے میں دو دیگر ملزمان کو تین، تین سال قید کی سزا دی گئی ہے۔

دارالحکومت مناما سے موصول رپورٹس کے مطابق ان 11 افراد پر الزام تھا کہ انہوں نے بحرین کے خلاف “جارحانہ اور دہشت گردانہ سرگرمیوں” میں ایران کی پاسداران انقلاب فورس کے ساتھ تعاون کیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ ملزمان کے خلاف پیش کیے گئے شواہد الزامات ثابت کرنے کے لیے کافی تھے۔

بحرینی حکومت کے مطابق سزا پانے والے افراد حساس سرکاری اور اہم قومی مقامات سے متعلق خفیہ معلومات اکٹھی کرکے ایران کی آئی آر جی سی تک پہنچانے میں ملوث تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان نے مالی وسائل کی منتقلی اور مبینہ نیٹ ورک کو سہولت فراہم کرنے میں بھی کردار ادا کیا۔

ریاستی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ دوسری جانب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز دوبارہ نہ کھولی گئی تو تہران کو پہلے سے بھی شدید بمباری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔