مشرق وسطیٰ میں کم قیمت فائبر آپٹک ڈرونز جدید جنگی حکمت عملی کو تیزی سے تبدیل کر رہے ہیں اور اب یہ جدید ترین فضائی دفاعی نظاموں کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بنتے جا رہے ہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق سستے لیکن مؤثر ڈرونز نے مہنگے دفاعی نظاموں کی کمزوریاں نمایاں کرنا شروع کر دی ہیں۔
حالیہ دنوں میں ایک ویڈیو منظر عام پر آئی جس میں مبینہ طور پر دھماکہ خیز مواد سے لیس ایک ڈرون کو اسرائیل کے مشہور فضائی دفاعی نظام آئرن ڈوم کی ایک بیٹری کو نشانہ بناتے ہوئے دکھایا گیا۔ اگرچہ اس ویڈیو کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی، تاہم دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کے حقیقی ہونے کے امکانات کافی زیادہ ہیں۔
رپورٹس کے مطابق یہ ویڈیو حزب اللہ کی جانب سے جاری کی گئی، جو اسرائیل کے خلاف حملوں میں ایف پی وی (فرسٹ پرسن ویو) ڈرونز کا استعمال بڑھا رہی ہے۔ ان ڈرونز کے ذریعے آپریٹرز کو ہدف کی براہ راست ویڈیو ملتی ہے، جس سے حملے زیادہ درست اور خطرناک بن جاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق سب سے زیادہ تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ ان میں سے کئی ڈرونز روایتی ریڈیو سگنلز کے بجائے فائبر آپٹک کیبلز کے ذریعے کنٹرول کیے جا رہے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کے باعث انہیں جام کرنا یا ان کا سگنل روکنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے، جس سے جدید دفاعی نظام بھی مشکلات کا شکار ہیں۔
یہی ٹیکنالوجی روس یوکرین جنگ میں بھی بڑے پیمانے پر استعمال ہو رہی ہے، جہاں دونوں فریق ان ڈرونز سے نمٹنے کے لیے مختلف عارضی طریقے آزما رہے ہیں، جن میں جال بچھانا، فائبر کیبل کاٹنا اور شاٹ گن سے نشانہ بنانا شامل ہے۔ تاہم اب تک کوئی مکمل اور مؤثر دفاعی حل سامنے نہیں آ سکا۔
اسرائیلی دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑی فوجیں اکثر نئے خطرات کو بروقت سمجھنے میں سست روی دکھاتی ہیں، جس کے نتیجے میں اربوں ڈالر مالیت کے دفاعی نظام چند سو ڈالر کے ڈرونز کے سامنے غیر مؤثر دکھائی دینے لگتے ہیں۔
دوسری جانب بینجمن نیتن یاہو نے اعتراف کیا ہے کہ ڈرون خطرات سے نمٹنے کے لیے خصوصی منصوبے پر کام جاری ہے، تاہم اس میں وقت لگے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل کی جنگوں میں کم قیمت، تیز رفتار اور مؤثر اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی ناگزیر ہو چکی ہے کیونکہ روایتی دفاعی نظام ہر نئے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے کافی ثابت نہیں ہو رہے۔


