سعودی عرب کے وزیرِ صحت فہد الجلاجل نے حج 1447 ہجری کے لیے صحت کے نظام کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے فیلڈ دورہ کیا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے سعودی وژن 2030 کے تحت خدمتِ ضیوف الرحمان پروگرام کے اہداف کے مطابق طبی خدمات کے اعلیٰ معیار اور کارکردگی کو یقینی بنانے کی ہدایات دیں۔
اس سال حجاجِ کرام کو فوری اور بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس ایک وسیع نیٹ ورک فعال کیا گیا ہے۔
طبی نظام کے تحت شدید نوعیت کے مریضوں کی فوری منتقلی کے لیے 11 فضائی ایمبولینس طیارے اور 3 ہزار سے زائد مختلف اقسام کی ایمبولینس گاڑیاں تعینات کی گئی ہیں۔ ادویات اور طبی سامان کی تیز تر ترسیل کے لیے پہلی بار ڈرون طیاروں کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے۔
مزید برآں، جنرل اتھارٹی برائے خوراک و ادویات کی جانب سے باڈی کیمروں اور مخصوص ریفریجریٹرز پر مشتمل جدید نگرانی کا نظام متعارف کرایا گیا ہے، جس سے فیلڈ سطح پر کنٹرول کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔
حج کے دوران ہجوم اور پیدل راستوں میں فوری رسائی کے لیے اسمارٹ نظامِ مینجمنٹ کے تحت درج ذیل وسائل فراہم کیے گئے ہیں:
برقی ایمبولینس اور کرسیاں زیادہ رش والے راستوں میں مریضوں تک پہنچنے میں مددگار ہوں گی۔
ایئرکنڈیشنڈ برقی گالف گاڑیاں پیدل چلنے والے راستوں اور بھیڑ والے مقامات پر تعینات ہوں گی۔
طبی عملے کی تیز رفتار نقل و حرکت کے لیے الیکٹرک اسکوٹرز، برقی ایمبولینس بائیکس، موٹر سائیکلیں اور بائیسکلز کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔
سعودی ہلالِ احمر کے اس جامع آپریشنل منصوبے اور وزیرِ صحت کے ان مسلسل دوروں کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ تمام عازمینِ حج مکمل سکون، حفاظت اور بہترین صحت کے ساتھ اپنے مناسکِ حج ادا کر سکیں۔


