ایران پر امریکی پابندیاں ناکام: کرپٹو کرنسی سےاربوں ڈالر کی منتقلی

امریکا کی سخت ترین اقتصادی پابندیوں کے باوجود ایران نے کرپٹو کرنسی کے خفیہ نیٹ ورکس کے ذریعے اربوں ڈالر کی لین دین کر کے عالمی طاقتوں کو چونکا دیا۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی تہلکہ خیز رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران سے جڑے نیٹ ورکس نے دنیا کے بڑے کرپٹو ایکسچینج بائینانس کے ذریعے بھاری رقوم منتقل کیں، جن کا تعلق مبینہ طور پر ایرانی پاسدارانِ انقلاب اور خطے میں سرگرم مسلح گروہوں کی مالی معاونت سے جوڑا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایران کے متنازع کاروباری شخصیت بابک زنجانی سے وابستہ نیٹ ورک نے صرف دو برسوں میں تقریباً 85 کروڑ ڈالر منتقل کیے، جبکہ مجموعی طور پر ایران سے جڑے اکاؤنٹس کے ذریعے 2.5 ارب ڈالر سے زائد کی ٹرانزیکشنز سامنے آئی ہیں۔ امریکی تحقیقاتی اداروں کو شبہ ہے کہ ان رقوم کا کچھ حصہ یمن کے حوثی باغیوں سمیت ایران کے اتحادی گروہوں تک پہنچایا گیا۔

اس انکشاف کے بعد امریکی محکمہ انصاف نے بائینانس کے خلاف تحقیقات تیز کر دی ہیں۔ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ کرپٹو پلیٹ فارمز پابندیوں سے بچنے اور دہشت گرد تنظیموں کی فنڈنگ کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ پہلے ہی بائننس کو اینٹی منی لانڈرنگ قوانین پر سختی سے عمل کرنے کی وارننگ دے چکا ہے۔

ادھر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب ایران نے آبنائے ہرمز میں گزرنے والے جہازوں کے لیے محفوظ ہرمز کے نام سے بٹ کوائن پر مبنی میری ٹائم انشورنس پلیٹ فارم متعارف کرا دیا۔ اس منصوبے کے تحت جہاز ران کمپنیوں اور کارگو مالکان کو انشورنس فیس بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیز میں ادا کرنا ہوگی۔

ماہرین کے مطابق یہ اقدام صرف ایک مالی منصوبہ نہیں بلکہ آبنائے ہرمز پر ایران کے اثر و رسوخ کو مضبوط بنانے کی نئی حکمت عملی ہے۔ دنیا بھر میں تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھے جانے والے اس سمندری راستے سے روزانہ لاکھوں بیرل خام تیل گزرتا ہے، جبکہ بھارت سمیت کئی ایشیائی ممالک اپنی توانائی ضروریات کے لیے اسی راستے پر انحصار کرتے ہیں۔