زمین کی جانب بڑھتے 5 دیوہیکل شہابِ ثاقب: ناسانےخطرے کی گھنٹی بجادی

خلائی تحقیق سےمعتلق امریکی ادارے ناسا نے زمین کے قریب سے گزرنے والے پانچ خطرناک شہابِ ثاقب کے حوالے سے الرٹ جاری کر دیا ہے، جس کے بعد دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔

ناسا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری کے مطابق یہ تمام خلائی چٹانیں آج ایک کے بعد ایک زمین کے قریب سے گزریں گی، جن میں سے ایک کا فاصلہ اتنا کم ہوگا کہ ماہرین نے خصوصی نگرانی شروع کر دی ہے۔

سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والا شہابِ ثاقب 1کےایم 2026 ہے، جس کا حجم تقریباً 42 فٹ بتایا گیا ہے، یعنی ایک بڑی بس کے برابر۔ یہ خلائی پتھر زمین سے صرف 6 لاکھ 39 ہزار کلومیٹر کے فاصلے سے گزرے گا۔ اگرچہ یہ فاصلہ بظاہر بہت زیادہ لگتا ہے، لیکن خلائی پیمانوں کے لحاظ سے اسے “قریب گزرنا” تصور کیا جاتا ہے۔

اسی طرح جےایم 2026 نامی ایک اور شہابِ ثاقب بھی زمین کے نزدیک پہنچ رہا ہے۔ اس کا سائز تقریباً 72 فٹ ہے، جو ایک مسافر طیارے کے برابر بتایا جا رہا ہے۔ یہ زمین سے تقریباً 19 لاکھ 90 ہزار کلومیٹر کے فاصلے سے گزرے گا۔

رپورٹ کے مطابق 1 کے ای 2026 بھی ماہرین کی نگرانی میں ہے۔ 66 فٹ چوڑا یہ شہابِ ثاقب تقریباً 26 لاکھ کلومیٹر دور سے گزرے گا، جبکہ 2026 کے زیڈ نامی 100 فٹ بڑا دیوہیکل خلائی پتھر 52 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے سے زمین کے قریب آئے گا۔

پانچواں شہابِ ثاقب کے کے 2026 ہے، جس کا حجم 77 فٹ بتایا گیا ہے اور یہ تقریباً 58 لاکھ 70 ہزار کلومیٹر دور سے گزرے گا۔

ماہرینِ فلکیات کے مطابق ان میں سے کسی شہابِ ثاقب کے زمین سے ٹکرانے کا فوری خطرہ موجود نہیں، تاہم ناسا ایسے تمام خلائی اجسام پر مسلسل نظر رکھتا ہے کیونکہ مستقبل میں کسی بڑے شہابِ ثاقب کا رخ زمین کی طرف مڑنا تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اگر 100 فٹ یا اس سے بڑا کوئی شہابِ ثاقب زمین سے ٹکرا جائے تو وہ شدید دھماکے، زلزلے اور بڑے پیمانے پر تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کی خلائی ایجنسیاں زمین کےقریبآنےوالے اجسام پر مسلسل تحقیق اور نگرانی جاری رکھے ہوئے ہیں۔