مناسکِ حج کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے اور دنیا بھر سے آئے لاکھوں عازمینِ حج خیموں کے شہر منیٰ پہنچنا شروع ہوگئے ہیں۔ عازمین کی منیٰ آمد کا سلسلہ آج دوپہر تک جاری رہے گا، جہاں وہ سنتِ ابراہیمی کی پیروی کرتے ہوئے عبادات اور دعاؤں میں مشغول رہیں گے۔
عازمینِ حج پیر کی رات منیٰ میں قیام کریں گے جبکہ 9 ذی الحج بروز منگل وہ حج کے رکنِ اعظم وقوفِ عرفہ کی ادائیگی کے لیے میدانِ عرفات روانہ ہوں گے۔ وقوفِ عرفہ کو حج کا سب سے اہم رکن قرار دیا جاتا ہے جہاں لاکھوں فرزندانِ اسلام اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑا کر دعائیں مانگتے ہیں۔
دوسری جانب مقدس مقامات منیٰ اور عرفات میں شدید گرمی عازمین کے لیے بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ سعودی محکمہ موسمیات کے مطابق یومِ عرفہ کے موقع پر بھی درجہ حرارت تقریباً 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہنے کا امکان ہے۔ سخت موسم کے پیش نظر سعودی حکام نے عازمین کو سہولت فراہم کرنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔
سعودی حکومت کی جانب سے مقدس مقامات پر سایہ دار جگہوں میں اضافہ، ٹھنڈی پھوار دینے والے مسٹ فینز کی تنصیب اور طبی سہولیات کو مزید مؤثر بنایا گیا ہے تاکہ عازمین کو شدید گرمی سے محفوظ رکھا جا سکے۔ مختلف مقامات پر طبی عملہ، ایمبولینسز اور ہنگامی امدادی ٹیمیں بھی تعینات کردی گئی ہیں۔
حج کے روح پرور اجتماع کے دوران سیکیورٹی، ٹرانسپورٹ اور رہائش کے انتظامات کو بھی مزید بہتر بنایا گیا ہے تاکہ لاکھوں عازمین اپنے مذہبی فرائض پرسکون ماحول میں ادا کر سکیں۔


