مکہ مکرمہ میں حج کے ایام کے آغاز کے ساتھ ہی شدید گرمی عازمینِ حج کے لیے ایک بڑا امتحان بن گئی ہے، جہاں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر چکا ہے جبکہ آئندہ دنوں میں 47 ڈگری تک پہنچنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
اےایف پی کے مطابق مصر سے پہلی بار حج کی سعادت حاصل کرنے آنے والی عازمہ انس جمال نے بتایا کہ شدید گرمی کے باعث انہیں اپنی عبادات کا معمول تبدیل کرنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے منصوبہ بنایا تھا کہ تمام نمازیں مسجد الحرام میں ادا کریں گی، تاہم سخت دھوپ اور گرمی کے باعث دن کے اوقات میں ہوٹل کے ایئرکنڈیشنڈ کمرے میں نماز ادا کرنے پر مجبور ہوگئیں۔
حج کے بیشتر ارکان کھلے میدانوں میں ادا کیے جاتے ہیں جہاں لاکھوں عازمین شدید گرمی میں عبادات انجام دیتے ہیں۔ ہر سال ہیٹ اسٹروک، بے ہوشی اور گرمی سے متعلق دیگر طبی مسائل کے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں۔ سعودی محکمہ موسمیات کے مطابق حج کے دوران مکہ مکرمہ میں درجہ حرارت 42 سے 47 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔
برطانیہ سے آنے والے عماد احمد نے بتایا کہ وہ مسلسل پانی اور نمکیات سے بھرپور مشروبات استعمال کر رہے ہیں کیونکہ عازمین مسلسل چلنے پھرنے اور پسینے کے باعث جسمانی تھکن کا شکار ہو رہے ہیں۔
شدید موسم سے نمٹنے کے لیے سعودی حکام نے مسجد الحرام اور دیگر مقدس مقامات پر جدید کولنگ سسٹمز، بڑے پنکھے، پانی کی پھوار دینے والے مسٹ فینز اور ٹھنڈے فرش نصب کیے ہیں۔ اس کے علاوہ عازمین میں مسلسل ٹھنڈے پانی کی بوتلیں بھی تقسیم کی جا رہی ہیں۔
الجزائر سے تعلق رکھنے والے عازم محمد نبیل نے گرمی کو انتہائی سخت قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ خود کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے بار بار چہرے پر پانی ڈالتے ہیں۔
سعودی وزارتِ صحت کے مطابق 50 ہزار سے زائد طبی عملہ اور 3 ہزار ایمبولینسز عازمین کی خدمت کے لیے تعینات ہیں۔ وزارت نے بتایا کہ طبی ٹیمیں اب تک ہیٹ اسٹروک کے شکار درجنوں افراد کو طبی امداد فراہم کر چکی ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ برس حج کے دوران شدید گرمی کے باعث 1300 سے زائد عازمین جاں بحق ہوئے تھے، جس کے بعد رواں سال گرمی سے بچاؤ کے خصوصی انتظامات مزید بڑھا دیے گئے ہیں۔


