سمندر کی تہہ سے گالف بال کے برابرنیلے رنگ کی نئی آکٹوپس نسل دریافت

گالاپاگوس جزائرکے قریب سمندر کی گہرائی میں سائنسدانوں نے نیلے رنگ کی ایک نئی اور نایاب آکٹوپس نسل دریافت کر لی، جسے ماہرین نے سمندری حیات کی دنیا میں غیر معمولی پیش رفت قرار دیا ہے۔

اےایف پی کے مطابق یہ حیران کن دریافت اس وقت ہوئی جب چارکسڈارون فاؤنڈیشن کی تحقیقی ٹیم ایک آبدوز کے ذریعے تقریباً 1800 میٹر گہرائی میں سمندری حیات کا مشاہدہ کر رہی تھی۔ اسی دوران کیمرے میں ایک ننھی نیلی آکٹوپس نظر آئی، جس کا حجم گالف بال سے بھی چھوٹا بتایا گیا ہے۔

ویڈیو میں ایک سائنسدان کو حیرت سے یہ کہتے ہوئے سنا گیا، یہ بہت چھوٹی ہے، اور نیلی بھی! بعدازاں ماہرین نے اس نئی نسل کو مائیکروالوڈون گالاپاجنیسس کا نام دیا۔

امریکا کے فیلڈ میوزیم آف نیچرل ہسٹری سے تعلق رکھنے والی آکٹوپس ماہر جینیٹ وائیٹ نے بتایا کہ ابتدائی تصاویر دیکھتے ہی انہیں اندازہ ہوگیا تھا کہ یہ کوئی منفرد مخلوق ہے۔ ان کے مطابق اس آکٹوپس کی ساخت جنوبی امریکا کے دوسرے کنارے یوراگوئے کے قریب پائی جانے والی ایک نسل سے ملتی جلتی ہے، حالانکہ دونوں مختلف سمندروں میں موجود ہیں۔

ماہرین نے واحد نمونے کو نقصان پہنچائے بغیر اس کی اندرونی ساخت جانچنے کے لیے جدید سی ٹی اسکین ٹیکنالوجی استعمال کی۔ ہزاروں ایکس رے تصاویر کی مدد سے آکٹوپس کا تھری ڈی ماڈل تیار کیا گیا، جس سے اس کے جسمانی خدوخال اور اندرونی ساخت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

سائنسدانوں کے مطابق اس آکٹوپس کی پشت ہلکے نیلے جبکہ نچلا حصہ گہرے جامنی رنگ کا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ رنگ اسے شکاری جانوروں سے بچانے میں مدد دیتے ہیں۔

تحقیقی ٹیم کے مطابق سمندر کی گہرائیوں میں اب بھی بے شمار ایسی مخلوقات موجود ہیں جنہیں انسان نے کبھی نہیں دیکھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے بیشتر سمندری علاقے اب تک مکمل طور پر دریافت نہیں کیے جا سکے، اسی لیے نئی سمندری انواع کی دریافت کا سلسلہ جاری ہے۔