امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کو اسرائیل سے مسلم مملک کے معاہدہ ابراہیمی سے جوڑتے ہوئے پاکستان سمیت کئی مسلم ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کیلئے اس میں شامل ہوں۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے سعودی عرب، بحرین، متحدہ عرب امارات، قطر، پاکستان، ترکیہ، مصر اور اردن کے رہنماؤں سے گفتگو کے دوران واضح کیا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ طے پانے کے بعد ان ممالک کیلئے ابراہام معاہدوں میں شمولیت ضروری ہونی چاہیے۔
ٹرمپ کے مطابق امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں امن اور استحکام کیلئے جو پیچیدہ سفارتی کوششیں کی ہیں، ان کے نتیجے میں یہ ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ایک یا دو ممالک کے پاس اس میں شامل نہ ہونے کی وجوہات ہوسکتی ہیں، تاہم زیادہ تر ممالک اس معاہدے کا حصہ بننے کیلئے تیار اور آمادہ ہوں گے۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ابراہام معاہدوں نے شامل ممالک کیلئے مالیاتی، اقتصادی اور سماجی ترقی کے نئے دروازے کھولے ہیں۔ ان کے بقول متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش، سوڈان اور قازقستان جیسے ممالک کو ان معاہدوں سے نمایاں فوائد حاصل ہوئے اور موجودہ جنگی اور کشیدہ حالات کے باوجود کسی بھی ملک نے معاہدوں سے علیحدگی یا وقفہ لینے کی بات نہیں کی۔


