دنیا بھر میں ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر: ہیٹ ڈوم نے یورپ کو لپیٹ میں لے لیا

دنیا کے کئی ممالک اس وقت شدید گرمی اور مسلسل بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے سنگین چیلنج کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایشیا سے لے کر یورپ تک ریکارڈ توڑ گرمی نے عام زندگی کو مفلوج کر دیا ہے، جہاں پاکستان میں پارہ 47 ڈگری سیلسیس سے تجاوز کر گیا ہے، وہیں یورپ، ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا کے متعدد ممالک میں بھی مئی کے مہینے میں مڈ سمر (گرمیوں کے عروج) جیسی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔

ماہرینِ موسمیات اور سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ال نینو اور انسانی سرگرمیوں کے باعث ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے گرم لہریں اب پہلے سے کہیں زیادہ طویل، جلدی اور خطرناک انداز میں اثر انداز ہو رہی ہیں۔

مغربی یورپ اس وقت شمالی افریقا سے آنے والی گرم ہواؤں کے ایک بڑے دباؤ کے نیچے دب گیا ہے، جسے ماہرین نے ہیٹ ڈوم (گرمی کا گنبد) کا نام دیا ہے۔ اس ہائی پریشر سسٹم کے باعث برطانیہ، فرانس، اسپین اور آئرلینڈ جیسے ممالک میں مئی کے تمام پرانے ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ حالات اس قدر سنگین ہیں کہ لندن کے باسیوں نے موجودہ موسم کو ’جہنم کی چھوٹی شکل‘ قرار دینا شروع کر دیا ہے۔

برطانیہ کے محکمہ موسمیات ‘میٹ آفس’ کے مطابق جنوب مغربی لندن کے کیو گارڈنس میں درجہ حرارت 34.8 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جو مئی کے سابقہ ریکارڈ سے پورے 2 ڈگری زیادہ ہے۔ میٹ آفس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر جاری بیان میں اس گرمی کو مئی کے مہینے کے لیے بالکل غیر معمولی قرار دیا ہے۔

دوسری جانب فرانس کے 350 سے زائد شہروں میں مئی کے ریکارڈ ٹوٹ چکے ہیں اور کئی مقامات پر درجہ حرارت 37 ڈگری سیلسیس سے اوپر چلا گیا ہے۔ پیرس میں ایک رننگ پروگرام کے دوران شدید گرمی کی وجہ سے ایک شخص ہلاک جبکہ متعدد افراد اسپتال منتقل کیے گئے، جس کے بعد حکومت نے ہائی ٹمپریچر الرٹ جاری کر دیا ہے۔

اسپین میں درجہ حرارت 38 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے جبکہ اٹلی میں چلچلاتی دھوپ کے پیشِ نظر دوپہر کے وقت باہر کام کرنے پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ ویتنام سمیت جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک میں بھی پارہ 40 ڈگری کے قریب پہنچ چکا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جو گرمی پہلے جون اور جولائی میں پڑتی تھی، وہ اب مئی میں ہی قہر ڈھا رہی ہے۔ اس شدید موسم کی وجہ سے دنیا بھر میں اسکول، کھیلوں کے پروگرام اور عوامی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں، جبکہ ہیٹ اسٹروک، صحت کے بحران اور جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات میں بھی خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے۔ سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر موسمیاتی تبدیلیوں کا سدِباب نہ کیا گیا تو دنیا ایک نئے اور انتہائی خطرناک موسم کی طرف دھکیل دی جائے گی۔