دنیا کے بیشتر ممالک میں آج عیدالاضحیٰ مذہبی عقیدت، جوش و خروش اور جذبۂ قربانی کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، پاکستان، ترکیہ، مصر، قطر، کویت، ملائیشیا، انڈونیشیا سمیت یورپ، امریکا اور دیگر خطوں میں مسلمان نمازِ عید ادا کر کے سنتِ ابراہیمی کی پیروی میں جانوروں کی قربانی کر رہے ہیں۔
مختلف ممالک میں مساجد، عید گاہوں اور اسلامی مراکز میں نمازِ عید کے بڑے اجتماعات منعقد ہوئے جہاں عالمِ اسلام کے اتحاد، امن، خوشحالی اور مظلوم مسلمانوں کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ خطباتِ عید میں حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی عظیم قربانی کے فلسفے کو اجاگر کرتے ہوئے ایثار، صبر اور انسانیت کی خدمت کا درس دیا گیا۔
سعودی عرب میں فریضۂ حج کی ادائیگی کے ساتھ عیدالاضحیٰ کی روحانی فضاء اپنے عروج پر ہے، جہاں لاکھوں حجاج منیٰ میں رمی، قربانی اور دیگر مناسک ادا کر رہے ہیں۔ دوسری جانب دنیا بھر میں مسلمان قربانی کا گوشت عزیز و اقارب، ہمسایوں اور مستحق افراد میں تقسیم کر کے عید کی خوشیاں بانٹ رہے ہیں۔
امریکا، برطانیہ، کینیڈا، فرانس، جرمنی اور آسٹریلیا سمیت مغربی ممالک میں بھی مسلمان کمیونٹیز نے عید کے اجتماعات کا اہتمام کیا۔ مختلف اسلامی تنظیموں اور فلاحی اداروں کی جانب سے ضرورت مند خاندانوں تک قربانی کا گوشت پہنچانے کے خصوصی انتظامات کیے گئے۔
کئی ممالک میں عیدالاضحیٰ کے موقع پر سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ عوامی مقامات، مساجد اور عید گاہوں کے اطراف پولیس اور انتظامیہ متحرک رہی۔
دنیا بھر کے مسلمان اس موقع پر غزہ، کشمیر، فلسطین اور دیگر متاثرہ خطوں میں امن، استحکام اور مظلوم انسانوں کی مدد کے لیے خصوصی دعائیں بھی کر رہے ہیں۔ عیدالاضحیٰ نہ صرف قربانی کی عظیم روایت کی یاد دلاتی ہے بلکہ انسانیت، ہمدردی، اتحاد اور بھائی چارے کے پیغام کو بھی اجاگر کرتی ہے۔


