اسرائیلی بربریت نے غزہ سے عید کی رونقیں چھین لیں

غزہ میں اسرائیلی بربریت کی وجہ سے حالیہ تاریخ کے بدترین انسانی بحران نے عیدالاضحیٰ کی خوشیوں کو شدید متاثر کر دیا ہے، جہاں بیشتر فلسطینی خاندان اس سال قربانی تو درکنار اپنے بچوں کے لیے گوشت خریدنے سے بھی محروم ہو گئے ہیں۔

غزہ سے تعلق رکھنے والی فلسطینی خاتون نادیہ ابو شمالہ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف بازاروں میں قیمتیں دیکھنے جاتی ہیں کیونکہ خریداری ان کی استطاعت سے باہر ہو چکی ہے۔

گزشتہ دو برس سے شمالی غزہ سے بے گھر ہو کر دیر البلح میں پناہ لیے ہوئے 40 سالہ نادیہ نے کہا کہ جنگ، مہنگائی اور مسلسل خوف نے عید کی تمام خوشیاں چھین لی ہیں۔ہم اب بھی خیموں میں زندگی گزار رہے ہیں، ہمارے پاس خوشی نام کی کوئی چیز نہیں، صرف پریشانی، خوف اور تھکن باقی رہ گئی ہے۔

اگرچہ اکتوبر 2025 میں امریکی ثالثی میں جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم غزہ میں اسرائیلی فضائی حملے اب بھی جاری ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق جنگ کے دوران غزہ کی 80 فیصد عمارتیں متاثر یا تباہ ہو چکی ہیں جبکہ آبادی کی اکثریت بنیادی ضروریات کے لیے امداد پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔

غزہ میں عیدالاضحیٰ کی سب سے اہم روایت یعنی قربانی اس سال شدید متاثر ہوئی ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او) کے مطابق جنگ سے قبل موجود بھیڑ بکریوں کی تعداد کا صرف ایک چوتھائی باقی رہ گیا ہے، یعنی 21 لاکھ آبادی کے لیے محض 15 ہزار جانور دستیاب ہیں۔

غزہ کی وزارت زراعت کے ترجمان رافت عسالیہ کے مطابق محدود سپلائی، چارے، ٹرانسپورٹ اور افزائش کے بڑھتے اخراجات اور فارموں کی تباہی کے باعث قربانی کے جانوروں کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔جنگ سے قبل ایک بکرے یا بھیڑ کی قیمت تقریباً ایک ہزار شیکل تھی، جو اب بڑھ کر 11 سے 15 ہزار شیکل تک پہنچ چکی ہے۔

غزہ سٹی کے رہائشی احمد ابو سالم نے کہا کہ انہوں نے زندگی میں کبھی اتنی زیادہ قیمتیں نہیں دیکھیں۔ ان کے مطابق ان جیسے خاندان، جو ہر سال قربانی کیا کرتے تھے، اب اپنے بچوں کے لیے ایک کلو گوشت خریدنے کی بھی استطاعت نہیں رکھتے۔اس کے باوجود کچھ خاندان محدود وسائل میں عید کی روایات زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ابو عبداللہ المصدار نے اپنے بھائی کے ساتھ مل کر تقریباً 13 ہزار شیکل جمع کیے تاکہ قربانی کے لیے ایک بھیڑ خرید سکیں۔اگرچہ قیمت بہت زیادہ ہے، لیکن انہوں نے اس سال بھی قربانی ادا کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ یہ ان کے ایمان اور روایت کا حصہ ہے۔

دوسری جانب کھانا پکانے کے لیے گیس کی شدید قلت نے عید کی روایتی مٹھائیوں اور بسکٹوں کی تیاری بھی مشکل بنا دی ہے۔ جنوبی غزہ کے خان یونس میں ایک خاندان نے اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کے پرانے ترپال سے بنے عارضی خیمے کے نیچے مٹی کے چولہے پر عید کے روایتی “معمول” تیار کیے۔

بے گھر فلسطینی ابو احمد وافی نے کہا کہ پہلے گھروں میں عید کے خصوصی پکوان بنتے تھے، مگر اب نہ گیس دستیاب ہے اور نہ ہی مہنگائی کے باعث ضروری اشیا خریدنا ممکن رہا ہے۔

غزہ میں عیدالاضحیٰ اس سال خوشیوں کے بجائے جنگ، بھوک، بے گھری اور معاشی تباہی کی تلخ یاد بن کر رہ گئی ہے، جہاں لاکھوں فلسطینی بہتر دنوں کی امید لیے خیموں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔