ڈیجیٹل دور میں جہاں گوگل اور مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیکنالوجیز روزمرہ زندگی کا اہم حصہ بن چکی ہیں، وہیں اسمارٹ فون صارفین کے ذہنوں میں ایک اہم سوال بھی تیزی سے ابھر رہا ہے کہ کیا ان کا فون ان کی باتیں سنتا ہے اور گوگل ان کی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھتا ہے؟
ماہرین کے مطابق اسمارٹ فونز اور مختلف آن لائن سروسز صارفین کے بارے میں بڑی مقدار میں ڈیٹا جمع کرتی ہیں، جس میں لوکیشن، سرچ ہسٹری، ویڈیو دیکھنے کی عادات، ایپس کے استعمال اور بعض صورتوں میں وائس کمانڈز بھی شامل ہو سکتی ہیں۔
اگر کسی صارف نے اپنے فون میں گوگل کی لوکیشن سروسز فعال کر رکھی ہوں تو کمپنی صارف کی لوکیشن ہسٹری محفوظ کر سکتی ہے۔ اس میں یہ معلومات شامل ہو سکتی ہیں کہ صارف کہاں گیا، کتنی دیر رکا اور کس راستے سے سفر کیا۔
اسی طرح گوگل صارف کی انٹرنیٹ سرچز، دیکھی جانے والی ویڈیوز، پسندیدہ موضوعات اور ایپس کے استعمال کا تجزیہ بھی کرتا ہے تاکہ اس کی دلچسپی کے مطابق اشتہارات، خبریں اور ویڈیوز دکھائی جا سکیں۔
بعض صارفین نے شکایت کی ہے کہ کسی موضوع پر گفتگو کے کچھ ہی دیر بعد اسی سے متعلق اشتہارات ان کے فون پر ظاہر ہونے لگتے ہیں، جس سے لوگوں میں یہ خدشہ بڑھتا ہے کہ شاید فون ان کی گفتگو بھی سن رہا ہے۔
بہت سے اسمارٹ فونز میں ہےگوگل یا وائس اسسٹنٹ جیسے فیچرز موجود ہوتے ہیں۔ جب یہ فیچرز آن ہوں تو کچھ وائس کمانڈز ریکارڈ ہو سکتی ہیں تاکہ سسٹم صارف کی زبان اور اندازِ گفتگو کو بہتر طور پر سمجھ سکے۔
گوگل کا مؤقف ہے کہ وہ صارف کی اجازت کے بغیر نجی گفتگو ریکارڈ نہیں کرتا، تاہم ماہرین صارفین کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ اپنی پرائیوسی سیٹنگ کا باقاعدگی سے جائزہ لیتے رہیں۔
صارفین چاہیں تو اپنے گوگل اسسٹنٹ یا گوگل اکاؤنٹ کی سیٹنگز میں جا کر وائس اکٹیویٹی کو بند بھی کر سکتے ہیں۔
خود کو محفوظ کیسے رکھیں؟
ماہرین کے مطابق مکمل ڈیجیٹل سکیورٹی ممکن نہیں، لیکن چند احتیاطی اقدامات سے پرائیویسی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
صرف ضروری ایپس کو ہی لوکیشن، کیمرا اور مائیکرو فون کی اجازت دیں
غیر ضروری پرمیشنز فوراً بند کریں
گوگل اکاؤنٹ کی پرائیویسی سیٹنگ وقتاً فوقتاً چیک کریں
ٹو فیکٹر آتھینٹی فکیشن استعمال کریں
مشکوک لنکس اور جعلی ایپس سے بچیں
وائس ایکٹیوٹی اور لوکیشن ہسٹری کو ضرورت نہ ہو تو آف رکھیں
ماہرین کا کہنا ہے کہ آج کے دور میں اے آئی اور اسمارٹ ٹیکنالوجی انسانی زندگی کو آسان ضرور بنا رہی ہیں، لیکن اس کے ساتھ صارفین کو اپنی ڈیجیٹل پرائیویسی کے حوالے سے زیادہ محتاط اور باخبر رہنے کی ضرورت ہے۔


