دنیا میں موسمی خطرات: دنیا بھر میں ہیٹ ویوز، خشک سالی اور شدید بارشوں کا انتباہ

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن (ڈبلیو ایم او) نے خبردار کیا ہے کہ دنیا میں اوسط درجہ حرارت رواں سال اور آئندہ چار برس تک ریکارڈ یا ریکارڈ کے قریب رہنے کا قوی امکان ہے، جبکہ 2027 ممکنہ طور پر تاریخ کا گرم ترین سال بن سکتا ہے۔

ڈبلیو ایم او کی تازہ رپورٹ کے مطابق 2026 سے 2030 کے دوران عالمی اوسط درجہ حرارت کے صنعتی دور سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کرنے کے امکانات 75 فیصد تک پہنچ گئے ہیں، جو ماحولیاتی ماہرین کے لیے انتہائی تشویشناک اشارہ ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2015 کے بعد سے اب تک کے تمام گرم ترین سال ریکارڈ کیے گئے ہیں اور یہ خطرناک رجحان مزید شدت اختیار کر رہا ہے۔ ادارے کے مطابق 2026 سے 2030 کے درمیان کم از کم ایک سال ایسا ہوگا جو 2024 کا ریکارڈ توڑ کر دنیا کا گرم ترین سال بن جائے گا۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ 2026 کے اختتام پر ایل نینو موسمی نظام دوبارہ فعال ہو سکتا ہے، جس کے باعث 2027 میں عالمی درجہ حرارت مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ ایل نینو بحرالکاہل کے پانیوں کو گرم کر کے دنیا بھر میں موسموں، بارشوں اور ہواؤں کے نظام کو متاثر کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق آئندہ پانچ برسوں میں عالمی درجہ حرارت 1.3 سے 1.9 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ سکتا ہے، جبکہ کسی ایک سال میں 1.5 ڈگری کی حد عارضی طور پر عبور کرنے کے امکانات 91 فیصد ہیں۔

ڈبلیو ایم او نے خبردار کیا کہ قطب شمالی میں صورتحال سب سے زیادہ تشویشناک ہے، جہاں اگلے پانچ سردیوں کے موسم میں درجہ حرارت معمول سے 2.8 ڈگری زیادہ رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے، جو عالمی اوسط سے تین گنا زیادہ اضافہ ہے۔

رپورٹ میں دنیا کے مختلف خطوں میں شدید موسمی تبدیلیوں کی پیشگوئی بھی کی گئی ہے، جن میں یورپ، ساحل افریقہ، الاسکا اور سائبیریا میں غیر معمولی بارشیں جبکہ ایمیزون کے جنگلات میں خشک سالی شامل ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر عالمی حدت کو قابو میں نہ لایا گیا تو دنیا کو شدید ہیٹ ویوز، خوراک کی قلت، پانی کے بحران اور تباہ کن موسمی آفات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔