ایران سے جنگ نے دنیا کو بدترین توانائی بحران میں دھکیل دیا: انٹرنیشنل انرجی ایجنسی چیف

انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (آئی ای اے) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر فتح بیرول نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ نے دنیا بھر کی توانائی حکمتِ عملیوں کو تبدیل کرنا شروع کر دیا ہے، جبکہ ممالک ایندھن کی نئی سپلائی لائنز تلاش کرنے اور مقامی وسائل پر انحصار بڑھانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

آئی ای اے کی نئی ورلڈ انرجی انویسٹمنٹ رپورٹ میں فتح بیرول نے خبردار کیا کہ دنیا اس وقت تاریخ کے سب سے بڑے توانائی سکیورٹی بحران کے درمیان کھڑی ہے، جس کے اثرات 1970 کی دہائی کے تیل بحران جیسے بڑے عالمی معاشی و توانائی تغیرات پیدا کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ جنگ نے عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال بڑھا دی ہے، جس کے باعث حکومتیں اور کمپنیاں توانائی کے محفوظ ذرائع، متبادل سپلائی روٹس اور مقامی توانائی پیداوار پر توجہ مرکوز کر رہی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود 2026 میں تیل کے شعبے میں سرمایہ کاری مسلسل تیسرے سال بھی کم ہوگی اور یہ 500 ارب ڈالر سے نیچے آ جائے گی۔

دوسری جانب عالمی توانائی کے شعبے میں مجموعی سرمایہ کاری 2026 میں بڑھ کر 3.4 ٹریلین ڈالر (3400 ارب ڈالر)تک پہنچنے کا امکان ہے، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں معمولی اضافہ ہوگا۔

آئی ای اے کے مطابق دنیا اب تیزی سے ایسی توانائی پالیسیوں کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں توانائی سکیورٹی، جغرافیائی سیاست اور مقامی وسائل کو مرکزی اہمیت حاصل ہوگی۔