: نیوزی لینڈ کی حکومت نے 2026 کے بجٹ میں دفاعی اخراجات میں 9 فیصد اضافے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کو گزشتہ 80 برسوں کے سب سے خطرناک اور متنازع جیو اسٹریٹجک ماحول کا سامنا ہے۔
وزیر خزانہ نکولا وِلس نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ چار برسوں میں دفاعی شعبے کے لیے 3.5 ارب نیوزی لینڈ ڈالر (تقریباً 2.05 ارب امریکی ڈالر) کی نئی فنڈنگ مختص کی گئی ہے، جس کا مقصد ملک کے دفاعی اور تزویراتی مفادات کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اضافی فنڈنگ کے تحت اینزیک کلاس جنگی بحری جہازوں کی مدتِ استعمال بڑھائی جائے گی، نئے ڈرونز خریدے جائیں گے جبکہ سکیورٹی اور انٹیلی جنس سروسز کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔
بجٹ دستاویز کے مطابق آئندہ مالی سال میں دفاعی اخراجات ملک کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا 1.23 فیصد ہوں گے۔
ادھر وزیر خارجہ ونسٹن پیٹرز نے بحرالکاہل کے خطے کے لیے امدادی فنڈز میں 109.8 ملین نیوزی لینڈ ڈالر اور بیرونِ ملک سفارتی سرگرمیوں کے لیے 145.3 ملین ڈالر اضافی مختص کرنے کا اعلان کیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ فنڈنگ نیوزی لینڈ کے سفارتی اور تجارتی نیٹ ورک کے تحفظ اور ملکی مفادات کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گی۔
دوسری جانب حکومت نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث پیدا ہونے والے عالمی ایندھن بحران سے نمٹنے کے لیے تقریباً ایک ارب نیوزی لینڈ ڈالر مختص کیے ہیں۔
وزیر خزانہ نکولا وِلس نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال غیر یقینی ہے اور اگر تیل کی قیمتیں مزید بڑھتی ہیں تو اس کے گھریلو صارفین اور کاروبار پر شدید اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
حکومت نے 150 ملین نیوزی لینڈ ڈالر کا اسٹریٹجک فیول ریزرو قائم کر دیا ہے جبکہ ایندھن کی قلت بڑھنے کی صورت میں مزید 450 ملین ڈالر امدادی پیکج کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔
بجٹ کے مطابق مستحق خاندانوں کو ایک سال تک ہفتہ وار 50 نیوزی لینڈ ڈالر ٹیکس کریڈٹ بھی دیا جائے گا تاکہ بڑھتی مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں کے اثرات کم کیے جا سکیں۔
نیوزی لینڈ کے محکمہ خزانہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ کی جنگ مزید شدت اختیار کرتی ہے تو ملکی معیشت، پیداوار اور مالیاتی صورتحال پر دیرپا منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔


