ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے اپنے مقبول سوشل میڈیا پلیٹ فارمز فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ کے لیے باضابطہ طور پر پیڈ سبسکرپشن سروسز متعارف کرا دی ہیں، جسے کمپنی کی اشتہارات پر انحصار کم کرنے کی بڑی حکمتِ عملی قرار دیا جا رہا ہے۔
میٹا کی ہیڈ آف پروڈکٹ ناؤمی گلیٹنے انسٹاگرام پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں اعلان کیا کہ کمپنی عالمی سطح پر فیس بک پلس، انسٹاگرام پلس اور واٹس ایپ پلس متعارف کرا رہی ہے، جبکہ مستقبل میں کاروباری اداروں، کانٹینٹ کریئیٹرز اور مصنوعی ذہانت کی مصنوعات کے لیے مزید خصوصی پلانز بھی لائے جائیں گے۔
رپورٹس کے مطابق انسٹاگرام پلس اور فیس بک پلس کی ماہانہ فیس 3.99 ڈالر جبکہ واٹس ایپ پلس کی قیمت 2.99 ڈالر مقرر کی گئی ہے۔
کمپنی کے مطابق انسٹاگرام پلس اور فیس بک پلس استعمال کرنے والے صارفین کو بہتر اینالیٹکس، اسٹوری ری واچ اسٹیٹس، زیادہ آڈینس تک رسائی اور پروفائل کسٹمائزیشن جیسے اضافی فیچرز فراہم کیے جائیں گے۔
دوسری جانب واٹس ایپ پلس میں پریمیم اسٹیکرز، کسٹم رنگ ٹونز اور مختلف تھیمز جیسی ذاتی نوعیت کی سہولیات شامل ہوں گی۔
میٹا کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ان تمام سروسز کو ایک ہی برانڈ میٹا ون کے تحت یکجا کرنے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب میٹا کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر بھاری سرمایہ کاری کے باعث سرمایہ کاروں کی جانب سے شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ کمپنی نے رواں سال اے آئی ڈیٹا سینٹرز سمیت دیگر منصوبوں پر 125 سے 145 ارب ڈالر تک خرچ کرنے کا تخمینہ ظاہر کیا ہے۔
اعلان کے بعد میٹا کے شیئرز میں تقریباً تین فیصد اضافہ بھی دیکھنے میں آیا۔
واضح رہے کہ میٹا نے 2023 میں یورپ میں صارفین کو اشتہارات سے پاک فیس بک اور انسٹاگرام استعمال کرنے کے لیے پیڈ سروس فراہم کی تھی تاکہ یورپی یونین کے ڈیٹا پرائیویسی قوانین پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔


