جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 3 افراد جاں بحق جبکہ ایک درجن سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔
لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق حملوں کا سلسلہ مختلف دیہات اور قصبوں میں جاری رہا جس سے شہری علاقوں کو بھی نقصان پہنچا۔
لبنانی حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں ایک باپ اور بیٹا شامل ہیں جن کی شناخت زہیر احمد ہاشم اور ان کے بیٹے علی کے نام سے ہوئی ہے۔ دونوں افراد جنوبی لبنان کے شہر صور کے شمال میں واقع قصبے انصار کے محلہ المرج میں اپنے گھر پر ہونے والے اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق اسی حملے میں خاندان کے مزید سات افراد زخمی بھی ہوئے، جنہیں طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی نے بتایا کہ اسرائیلی طیاروں نے شریفہ، حبوش اور نبطیہ کو ملانے والی سڑک پر بھی حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ایک شہری جاں بحق جبکہ ایک اور شدید زخمی ہوگیا۔
ادھر نبطیہ کے سرکاری اسپتال جانے والی مرکزی شاہراہ پر بھی اسرائیلی فضائی حملے کی اطلاع ملی ہے، جہاں کم از کم تین افراد زخمی ہوئے۔
لبنانی میڈیا کے مطابق صبح تقریباً 8 بج کر 15 منٹ پر انصار قصبے پر ایک اور فضائی حملہ کیا گیا جس میں قصبے کے مرکزی تجارتی مرکز ’’الخلیل شاپنگ سینٹر‘‘ کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔
بعد ازاں صبح ساڑھے نو بجے کے قریب زبادین کے علاقے پر بھی متعدد فضائی حملے کیے گئے، جس کے نتیجے میں علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے ان حملوں پر فوری طور پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم جنوبی لبنان میں حالیہ ہفتوں کے دوران اسرائیلی کارروائیوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔


