اسرائیل کی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ 2025 کے دوران ملک کی دفاعی برآمدات تقریباً 30 فیصد اضافے کے ساتھ ریکارڈ 19.2 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔
وزارتِ دفاع کے مطابق دفاعی برآمدات نے مسلسل پانچویں سال نیا ریکارڈ قائم کیا ہے، جبکہ گزشتہ پانچ برسوں میں یہ حجم دوگنا سے زیادہ اور گزشتہ ایک دہائی میں چار گنا بڑھ چکا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی دفاعی صنعتوں نے وزارتِ دفاع کی معاونت اور رہنمائی میں دنیا بھر میں سینکڑوں نئے معاہدوں پر دستخط کیے، جن کی مجموعی مالیت 19.2 ارب ڈالر رہی۔ ان میں سے 53 فیصد معاہدے ایسے تھے جن کی مالیت 100 ملین ڈالر یا اس سے زائد تھی۔
اعداد و شمار کے مطابق میزائل، راکٹ اور فضائی دفاعی نظام برآمدات میں سرفہرست رہے اور مجموعی معاہدوں کا 29 فیصد حصہ ان مصنوعات پر مشتمل تھا۔ آبزرویشن اور اوپٹرونکس سسٹمز کا حصہ 22 فیصد جبکہ ریڈار اور الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز کا حصہ 11 فیصد رہا۔
وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ اکتوبر 2023 سے مختلف محاذوں پر جاری جنگی کارروائیوں کے دوران اسرائیلی دفاعی نظاموں کی عملی کارکردگی نے عالمی سطح پر ان کی طلب میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
علاقائی لحاظ سے یورپ اسرائیلی دفاعی برآمدات کی سب سے بڑی منڈی رہا جہاں 36 فیصد معاہدے ہوئے، جبکہ ایشیا پیسفک کا حصہ 32 فیصد، مشرقِ وسطیٰ و شمالی افریقہ کا 15 فیصد اور شمالی امریکہ کا 13 فیصد رہا۔


