اہم ترین

امریکا کا چین پر ایک اور بڑا وار، اےآئی چپس تک رسائی مزید محدود

مصنوعی ذہانت (اےآئی ) کی عالمی دوڑ میں امریکا نے چین کے خلاف ایک اور اہم قدم اٹھاتے ہوئے جدید اےآئی چپس کی برآمدات پر عائد پابندیوں کا دائرہ مزید وسیع کر دیا ہے۔ نئے امریکی رہنما اصولوں کے مطابق یہ پابندیاں نہ صرف چین میں موجود کمپنیوں بلکہ بیرونِ ملک کام کرنے والی چینی کمپنیوں اور ان کی ذیلی شاخوں پر بھی لاگو ہوں گی۔

امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ بعض چینی کمپنیاں براہِ راست پابندیوں سے بچنے کے لیے بیرونِ ملک قائم اپنی ذیلی کمپنیوں کے ذریعے جدید اےآئی پروسیسرز حاصل کر سکتی تھیں، جس کے باعث قوانین کو مزید سخت بنانے کی ضرورت محسوس کی گئی۔

نئے ضوابط کے تحت چین میں ہیڈکوارٹر رکھنے والی کمپنیوں کو جدید اےآئی چپس کی خریداری کے لیے خصوصی لائسنس درکار ہوگا، چاہے ان کا کاروبار دنیا کے کسی بھی خطے میں کیوں نہ ہو۔ اس فیصلے کے بعد چینی کمپنیوں کے لیے امریکی چپ ساز کمپنی این ویڈیا کے جدیدبلیک ویل اےآئی چپس تک رسائی تقریباً ناممکن ہو جائے گی، جبکہ دیگر جدید پروسیسرز کی خریداری بھی سخت نگرانی اور منظوری سے مشروط ہوگی۔

دوسری جانب امریکا کی بڑھتی ہوئی پابندیوں کے جواب میں چین اپنی مقامی اےآئی سیمی کنڈکٹر صنعت کو تیزی سے فروغ دے رہا ہے۔ چینی ٹیکنالوجی کمپنیوں جیسے ہواوے، علی باب اور کیمبری کون نے اےآئی پروسیسرز اور سافٹ ویئر ایکو سسٹم کی تیاری میں سرمایہ کاری بڑھا دی ہے تاکہ غیر ملکی ٹیکنالوجی پر انحصار کم کیا جا سکے۔

اسی دوران ٹیسلا بھی اےآئی چپس کے شعبے میں قدم رکھنے کی تیاری کر رہی ہے۔ کمپنی کے سربراہ ایلون مسک ماضی میں اس بات کا اشارہ دے چکے ہیں کہ مستقبل کی خودکار گاڑیوں اور اےآئی منصوبوں کے لیے اپنی چپ سازی کی صلاحیت ضروری ہوگی۔

پاکستان