اے آئی کا بڑھتا استعمال ماحول کے لیے خطرہ بن گیا، اقوام متحدہ کی وارننگ

اقوام متحدہ کی ایک نئی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیت دنیا بھر میں بجلی، پانی اور زمین کے وسائل پر غیر معمولی دباؤ ڈال رہی ہے، جبکہ ٹیکنالوجی کمپنیوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے ماحولیاتی اثرات سے متعلق مکمل اور شفاف معلومات عوام کے سامنے لائیں۔

اقوام متحدہ کے یونیورسٹی انسٹی ٹیوٹ برائے واٹر، انوائرمنٹ اینڈ ہیلتھ (یو این یو – آئی این ڈبلیو ای ایچ ) کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر دنیا بھر کے ڈیٹا سینٹرز کو ایک ملک تصور کیا جائے تو 2025 میں بجلی کے استعمال کے لحاظ سے وہ دنیا کے گیارہویں بڑے صارف ہوتے۔

رپورٹ کے مطابق عالمی مصنوعی ذہانت کی مارکیٹ 2023 میں 189 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2033 تک 4.8 کھرب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔ اسی تیز رفتار ترقی کے باعث ڈیٹا سینٹرز کی توانائی کی طلب میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں ڈیٹا سینٹرز نے 448 ٹیرا واٹ گھنٹے (ٹیرا واٹ فی گھنٹہ) بجلی استعمال کی، جبکہ 2030 تک یہ کھپت بڑھ کر 945 ٹیرا واٹ فی گھنٹے سے تجاوز کر سکتی ہے۔ اس سطح پر ڈیٹا سینٹرز بجلی کے استعمال کے اعتبار سے دنیا کے چھٹے بڑے ملک کے برابر ہوں گے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2025 میں ڈیٹا سینٹرز کی مجموعی بجلی کھپت کا تقریباً 20 فیصد حصہ صرف اے آئی ورک لوڈز پر مشتمل تھا، جو 2030 تک 40 فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ بڑھتی ہوئی توانائی کی ضرورت کے ساتھ ساتھ پانی کے وسائل پر بھی شدید دباؤ پڑے گا۔ اندازے کے مطابق 2030 تک ڈیٹا سینٹرز سالانہ 9.32 کھرب لیٹر پانی استعمال کر سکتے ہیں، جو افریقہ کے صحرائے اعظم کے جنوب میں رہنے والی پوری آبادی کی بنیادی سالانہ پانی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہے۔

رپورٹ کے مطابق چیٹ جی پی ٹی جیسے مقبول اے آئی پلیٹ فارمز روزانہ تقریباً 2.5 ارب سوالات اور درخواستوں کو پراسیس کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں سالانہ تقریباً 383 گیگا واٹ گھنٹے بجلی خرچ ہوتی ہے۔ یہ مقدار افریقہ کے تقریباً 30 لاکھ افراد کی سالانہ بجلی ضروریات کے برابر ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا کہ اے آئی ویڈیو جنریشن سب سے زیادہ توانائی استعمال کرنے والی ٹیکنالوجی بن چکی ہے۔ ایک مختصر اے آئی ویڈیو تیار کرنے میں سینکڑوں اے آئی تصاویر بنانے کے برابر بجلی خرچ ہو سکتی ہے۔

رپورٹ میں اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی کہ اے آئی سے متعلق زیادہ تر جدید ڈیٹا سینٹرز امریکا، چین اور یورپی یونین میں قائم ہیں، جبکہ ترقی پذیر ممالک معدنیات کے حصول، الیکٹرانک فضلے اور دیگر ماحولیاتی نقصانات کا بوجھ برداشت کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ نے حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ اے آئی کمپنیوں کے لیے توانائی، پانی اور کاربن اخراج سے متعلق معیاری اور لازمی ماحولیاتی رپورٹنگ متعارف کرائی جائے۔ ساتھ ہی صارفین کو بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ جہاں ممکن ہو، ایسے روایتی ذرائع استعمال کریں جو کم توانائی خرچ کرتے ہوں۔

ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت کے فوائد سے انکار نہیں کیا جا سکتا، تاہم اس کی ماحولیاتی قیمت کو نظر انداز کرنا مستقبل میں سنگین مسائل کو جنم دے سکتا ہے، اس لیے شفافیت، نگرانی اور ذمہ دارانہ استعمال وقت کی اہم ضرورت ہے۔