امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی تجارت کے خلاف سخت مؤقف اپناتے ہوئے پاکستان سمیت 60 ممالک پر اضافی درآمدی ٹیرف عائد کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے، جس سے عالمی تجارتی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
جرمن نیوز ویب سائیٹ کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے (یو ایس ٹی آر) کے دفتر کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تحقیقات کے دوران متعدد ممالک جبری محنت سے تیار شدہ مصنوعات کی درآمد یا برآمد روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے میں ناکام رہے، جس کے نتیجے میں امریکی تجارت اور مقامی صنعتوں کو نقصان پہنچا۔
رپورٹ کے مطابق مجوزہ اقدامات فوری طور پر نافذ نہیں کیے جائیں گے بلکہ انہیں عوامی مشاورت، قانونی جائزے اور پالیسی جانچ کے مراحل سے گزارا جائے گا۔
تجویز کے تحت پاکستان، کینیڈا، میکسیکو، تائیوان، برطانیہ اور یورپی یونین کے رکن ممالک سے امریکا درآمد کی جانے والی اشیاء پر 10 فیصد اضافی ٹیرف عائد کیا جا سکتا ہے۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ ان ممالک نے جبری مشقت سے تیار شدہ مصنوعات کی روک تھام کے لیے اقدامات اور وعدے تو کیے، تاہم ان پر مکمل اور مؤثر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔
دوسری جانب چین، بھارت، جاپان، جنوبی کوریا، برازیل اور سوئٹزرلینڈ سمیت 45 ممالک پر 12.5 فیصد اضافی ٹیرف لگانے کی سفارش کی گئی ہے۔ امریکی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان ممالک میں جبری محنت سے منسلک مصنوعات کے خلاف پابندیوں پر خاطر خواہ عمل درآمد نہیں ہو رہا۔
ماہرین کے مطابق یہ اقدام صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کے لیے ایک نئے قانونی راستے کی حیثیت رکھتا ہے۔ فروری میں امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کے متعدد سابقہ ٹیرف اقدامات کو بڑی حد تک غیر قانونی قرار دیا تھا، جس کے بعد نئی تجارتی حکمت عملی ترتیب دی جا رہی ہے۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ مجوزہ ٹیرف نافذ ہو گئے تو امریکا کے اہم تجارتی شراکت داروں کو مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ پاکستان کی برآمدی صنعت، خصوصاً ٹیکسٹائل اور دیگر برآمدی شعبے بھی اس فیصلے کے ممکنہ اثرات سے متاثر ہو سکتے ہیں۔


